تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 263

سید احمد نورصاحب کابلی جو اب (۵۶ء سے پہلے) فوت ہو چکے ہیں نبوت کا دعویٰ کیا کرتے تھے ایک دفعہ ایک دوست ان کے پاس گئے تو وہ واپس آ کر مجھے کہنے لگے کہ ان کی اور باتوں کا جواب تو مجھے آ گیا ہے لیکن ایک دلیل کو میں رد نہیں کرسکا اور وہ یہ کہ انہوں نے کہا تم لوگ مجھے پاگل کہتے ہو حالانکہ قرآن میں یہ لکھا ہے کہ جتنے نبی اور رسول آئے سب کو لوگ پاگل کہا کرتے تھے۔پس تمہارا مجھے پاگل کہنا میری صداقت کی دلیل ہے میرے جھوٹے ہونے کی دلیل نہیں۔میں نے ان سے کہا کہ یہ تو بالکل سیدھی بات تھی نبی کو اس کے دعویٰ کے بعد محض اس کے دعوے کی وجہ سے لوگ پاگل کہتے ہیں لیکن سید احمد نور صاحب سے کہئے کہ آپ نے تو ابھی دعویٰ بھی نہیں کیا تھا کہ ہم آپ کو رسیوں سے باندھا کرتے تھے۔پس ایک پاگل کا اپنے آپ کو نبی کہنا اور چیز ہے اور نبی کو لوگوں کا پاگل کہنا بالکل اور چیز ہے۔اگر تو نبوت کے دعویٰ کے بعد لوگ انہیں پاگل کہنے لگ جاتے پہلے وہ دماغی لحاظ سے بالکل ٹھیک ہوتے تو کچھ دلیل بھی تھی لیکن انہیں تو دعویٰ سے پہلے ہی کئی دفعہ جنون کی وجہ سے رسیوں سے باندھا جا چکا ہے۔تو یہ دلیل بھی غلط استعمال ہونے لگ گئی ہے۔اسی طرح ایک نبی کی صداقت کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اس کی سابق زندگی اتنی شاندار ہوتی ہے کہ ہر قسم کے حالات میں سے گزرنے کے باوجود لوگ اس کی زندگی کو بالکل بے عیب پاتے ہیں۔اردگرد کے لوگ اسے ٹٹو لتے ہیں۔ایسے حالات اس پر گزرتے ہیں جب جھوٹ کے بغیر اس کی نجات کی کوئی صورت نہیں ہوتی مگر پھر بھی وہ جھوٹ نہیں بولتا اور لوگوں پر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ شخص نیک اور راستباز انسان ہے۔لیکن عام آدمیوں کی زندگیاں نمایاں نہیں ہوتیں۔بیسیوں چور ہوتے ہیں لیکن لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ چور ہیں۔بیسیوں جھوٹے ہوتے ہیں مگر چونکہ ان کے حالات لوگوں کے سامنے نہیں آتے اس لئے وہ مخفی رہتے ہیں۔پس یہ آیت صرف انبیاء ہی اپنے اوپر چسپاں کر سکتے ہیں۔وہ لوگوں کو چیلنج دیتے ہیں کہ تم نے ہماری زندگیوں کو دیکھا۔تم نے ہمارے حالات کو دیکھا۔تم نے ہمارے اخلاق اور عادات کی جستجو کی۔مگر تم نے یہی دیکھا کہ ہم جھوٹ بولنے والے نہیں۔پس جب ہم انسانوں پر جھوٹ نہیں بولتے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم خدا پر جھوٹ بولنے لگ جائیں۔یہی دلیل حضرت مسیح پیش کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔’’ تمہاری توریت میں بھی لکھا ہے کہ دو آدمیوں کی گواہی مل کر سچی ہوتی ہے۔ایک تو میں خود اپنی گواہی دیتا ہوں اور ایک باپ جس نے مجھے بھیجا میری گواہی دیتا ہے۔‘‘ اب اگر اپنی گواہی سے صرف اتنی ہی مراد ہو کہ چونکہ میںکہہ رہاہوں اس لئے میری بات سچی ہے تو اس طرح تو دنیا میں تباہی مچ جائے۔کیا عدالت میں مقدمہ پیش ہو تو ملزم کہہ سکتا ہے کہ ایک توا س واقعہ کا میں گواہ ہوں اور