تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 230

جب اُن پر نماز فرض نہیں تھی کہنے لگے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور جب پوری طرح ہو ش بھی نہیں تھا تو کہنے لگے کہ میں نبی ہو گیا ہوں اس بارہ میں اُن کا استدلال تَحْمِلُهٗاوريُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ (آل عمران :۴۷)سے ہے۔اب ہم انجیل کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس بارہ میں کیا کہتی ہے۔مرقس کہتا ہے کہ وہ یوحنا کے ظہور کے وقت ناصرہ میں تھا۔(انجیل مرقس باب۱آیت ۹) متی باب ۴آیت ۱۳ میں بھی لکھا ہے کہ جب یوحنا گرفتار ہوا تو مسیح ناصرہ چھوڑ کر کَفرنا حوم ایک گلیلی شہر میں گیا گویا وہ یہ تو نہیں بتاتے کہ پیدائش کے بعد حضرت مسیح ناصرہ کب گئے مگر یہ بتا تے ہیں کہ جب یوحنا کا ظہو ر ہوا تو اُس وقت وہ ناصرہ میں تھے اور اس کی گرفتاری پر وہ کفرنا حوم چلے گئے۔اِس سے پتہ لگا کہ حضرت مسیح ؑ جب جوان ہوئے توناصرہ میں آتے جاتے تھے۔لوقا سے معلوم ہوتا ہے کہ پیدائش کے کچھ دنوں بعد یوسف اور مریم ناصرہ چلے گئے اور وہیں مسیح پلا۔(انجیل لوقا باب۲آیت ۳۹)گویا یوحنا اِس بارہ میں بالکل خاموش ہے۔متی کچھ نہیں کہتا کہ وہ پیدا ہو کر کہا ں گئے۔مرقس کچھ نہیں کہتا کہ وہ پیدا ہوکر کہاں گئے۔لیکن لوقا کہتا ہے کہ وہ ناصرہ گئے۔لوقا باب ۱ آیت ۲۶و۲۷میں لکھا ہے کہ خدا کا فرشتہ مریم پر ناصرہ میں ظاہر ہوا اور وہیںاُسے حاملہ ہونے کی خوشخبری دی۔یہ حوالہ بتاتا ہے کہ حضرت مریم ناصرہ میں رہتی تھیں مردم شماری کے لئے بیت لحم گئیں اور پھر بچہ پیدا ہونے پر نا صرہ میں آگئیں اور حضرت مسیح وہیں ناصرہ میں رہے یہاں تک کہ یوحنا نے نبوت کا دعویٰ کیا۔اِس روایت کے مطابق حضرت مریم ناصرہ کی رہنے والی تھیں اور وہیں وہ مسیح کو لے گئیں اور لے جانے کا وقت پیدائش کے معاََ بعد کا ہے اگر یہ بیا ن درست ہے تو معلوم ہو اکہ مسیح کو اس کی والدہ پیدائش کے معاََ بعد اپنے وطن لے گئی تھیں جس کا نا م ناصرہ تھا۔اس صورت میں اِن آیات کا مطلب یہ ہوگا کہ مسیح نے پیدا ہوتے ہی کلام کیا۔کیونکہ قرآنی الفاظ یہ ہیں کہ فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا حضرت مریم اپنے رشتہ داروں اور تعلق والوںکے پاس اُن کو لائیںاور مسیح نے اُن سے کلام کیا۔پس اگر یہ صحیح ہے کہ وہ ناصرہ کی رہنے والی تھیں اور ناصرہ میں ہی اپنے بچے کو لے گئیں اور پیدائش کے چند دن بعد لے گئیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح نے پیدائش کے چند دن بعد ہی یہ کلام کیا۔لیکن اب ہم تحقیق کرتے ہیں کہ کیا لوقا کا یہ بیا ن ٹھیک ہے کہ مریم ناصرہ کی تھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیا ن درست نہیں۔متی میں لکھا ہے کہ جب مسیح پیدا ہوا تو اُس وقت مریم بیت لحم میں تھیں لیکن وہ اصل وطن کا ذکر نہیں کرتا بلکہ باب۲ میں جو ذکر ہے اُس سے شبہ ہوتا ہے کہ اُن کا وطن بیت لحم کے سوا کوئی اور تھا مگر وہ بیت لحم کے قریب ہی تھا۔اس