تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 231
کے بعد اُس میں لکھا ہے کہ چونکہ بادشاہ ہیرو دیس کو شبہ تھا کہ یہ لڑ کا جو پیدا ہوا ہے بڑا ہوکر حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرے گا کیونکہ مجوسی فقیروں نے اُسے بتایا تھا کہ ایسا لڑکا پیدا ہوا ہے اور ہم پورب میں اُس کا ستا رہ دیکھ کر آئے ہیں اس لئے ہیرو دیس نے انہیں کہا کہ جب تمہیں اُس کا پتہ ملے تو مجھے بھی بتانا۔اُس کی غرض یہ تھی کہ میں اُسے مروا ڈالوں گا تاکہ حکومت کو نقصان نہ پہنچے مگر متی کہتا ہے جب مجوسی آئے اور انہوں نے حضرت مسیح کو دیکھ لیا تو رات کو فرشتہ نے اُنہیں کہا کہ اب ہیرودیس کے پاس نہیں جانا چنانچہ وہ کسی دوسرے راستہ سے اپنے ملک کو روانہ ہوگئے۔ان کے جانے کے بعد یوسف پر فرشتہ ظاہر ہوا اور اُس نے کہا کہ بادشاہ اس بچہ کو مروانا چاہتا ہے تو اُٹھ اور بچے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر میں بھا گ جا۔چنانچہ یوسف اور مریم بچے کولے کر مصر میںچلے گئے۔اِدھر جب بادشاہ نے دیکھا کہ مجوسی واپس نہیں آئے بلکہ کسی اور راہ سے اپنے ملک کو واپس چلے گئے ہیں تواُسے سخت غصہ آیا اور اُس نے حکم دے دیا کہ بیت لحم اور اُس کے گردو نواح کے وہ تمام لڑکے جو دوسال یا اس سے چھوٹی عمر کے ہوں قتل کردئے جائیں (یہ قصہ دراصل موسیٰ ؑ کی نقل میں بنایا گیا ہے )بہر حال یوسف خدا سے خبر پاکر مسیح کو مصر لے گیا اور خدا تعالیٰ نے کہا کہ تو اُس وقت تک مصر میں ہی رہ جب تک کہ میں دوبارہ تجھ کو کوئی خبر نہ دُوں (متی باب ۲) اب دیکھو یہ بیان لوقا سے کتنا مختلف ہے لوقا کہتا ہے کہ مریم پیدائش کے معاََ بعد نا صرہ گئیں اور متی کہتا ہے کہ وہ مصر گئیں اور متی کہتا ہے۔کہ یہ قیاسی بات نہیں بلکہ الہاماََ یوسف کو کہا گیا کہ تُو نے وطن واپس نہیں جانا بلکہ مصر جاناہے۔اور پھر الہاماََ کہا کہ تُو نے مصر سے نہیں ہلنا جب تک کہ میں دوبارہ تجھ پر الہام نازل نہ کروں۔چنانچہ وہ وہاں رہے۔یہاںتک کہ ہیرودیس مر گیا۔پھر خدا نے اُس کو خبر دی۔کہ اب ہیرو دیس مرگیا ہے تو واپس اسرائیل کے ملک میںچلا جا۔لیکن جب یوسف واپس آیا اور اُسے معلوم ہوا کہ اَرخَلاؤس اپنے باپ کی جگہ پر بیٹھا ہے تو وہ ڈراکہ اگر میں اسرائیل کے ملک یعنی یہودیہ میں گیا تو مجھے مار ڈالیں گے (اس سے معلوم ہوا کہ بائبل کی رُو سے وہ جوڈیا یعنی یہودیہ کے کسی شہر کا باشند ہ تھا ) تب خدا سے اطلاع پاکر (گویا خدا تعالیٰ کو اَر خَلا ؤس کا پہلے علم نہ تھا ) وہ جلیل کے ایک شہر ناصرہ میں جا کر رہا تاکہ وہ جو نبیوں نے کہا تھا پورا ہوکہ وہ ناصری کہلائے گا (انجیل متی باب ۲ آیت اتا ۲۳) اس حوالہ سے کتنی باتیں ظاہر ہوتی ہیں ۱۔اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح بیت لحم میں پیدا ہوا۔۲۔پیدائش کے بعدیو سف خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت مریم اور بچہ کولے کر مصر گیا۔۳۔مصر میں وہ ہیرو دیس کی وفا ت تک رہا۔