تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 229
فرما دیا کہ آج ذکر الٰہی کرو اوراگر کوئی شخص تم سے کچھ پوچھنا چاہے تو اُسے بھی کہہ دو کہ آج میں نے ذکر الٰہی کرناہے۔اِس طرح بات ختم ہوجائے گی اور اگلی بات پیداہی نہیں ہوگی۔پس صوم سے مراد کلام کی حد بندی ہے یعنی فضول اور لغو باتیں نہیں کرنی۔بلکہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرناہے۔اس سے یہ بھی پتہ لگ گیا کہ نفاس اور حیض کی حالت میں ذکر الٰہی منع نہیں۔لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی حالت میں دل میں بھی ذکر الٰہی نہیں کیا جاسکتا۔حالانکہ اگر ذکر الٰہی منع ہو جائے تو روحانیت بالکل مرجائے بلکہ بعض لوگ تو مُنہ سے بھی ذکر الٰہی کرنا جائز سمجھتے ہیں حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ عورت حیض کے دنوں میں بھی قرآن کوکسی کپڑے یا رومال سے پکڑ کر اور پھر صاف ستھرے کپڑے پر رکھ کر پڑھ سکتی ہے ہاتھ سے پکڑنا اس لئے منع ہے کہ ممکن ہے ہاتھ کو حیض کی نجاست لگی ہو ئی ہو۔چنانچہ جن عورتوں نے حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ سے قرآن پڑھا ہے وہ اب بھی حیض کے ایام میں کپڑے پر قرآن رکھ کر پڑھ لیتی ہیں۔میرا یہ عقیدہ نہیں لیکن اگر کوئی پڑھے تو ہم اُسے کہتے کچھ نہیں۔کیونکہ قرآن بہر حال خدا تعالیٰ کا کلام ہے اگر کسی کے نزدیک حیض کی حالت میں اُسے دیکھ کر پڑھنا جائز ہو تو کیا حرج ہے۔فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا يٰمَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْـًٔا اس کے بعد وہ اس کولےکر اپنی قوم کے پاس اس کے دعویٰ کی تصدیق کرتی ہوئی آئی۔جنہوں نے کہا اے مریم فَرِيًّا۰۰۲۸ تُونے بہت بُرا کام کیا ہے۔تفسیر۔مفسرین اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ جب وہ وہاں سے فارغ ہوئیں اور چلنے پھرنے کے قابل ہوئیں تو اپنی قوم کے پاس آئیں۔بچہ اُن کی گود میں تھا۔انہوں نے اعتراض کیا کہ مریم تُو نے یہ کیا بلا ماری ہے حضرت مریم نے کہا مجھ سے کیا پوچھتے ہو اس بچہ سے پوچھ لو(تفسیر ابن کثیر)۔چنانچہ حضرت مسیح ؑ اُس وقت بولے اور انہوں نے کہا کہ میں خدا کا نبی ہو ں۔گو یا مسیح کا پہلا معجزہ ہی جھوٹا تھا۔وہ نبی نہیں تھا مگر اُس نے کہا میں نبی ہوں۔وہ نماز نہیں پڑھتا تھا مگر اُس نے کہا خدا نے مجھے نماز کا حکم دیا ہے حالانکہ وہ اُس وقت پوتڑوں میں پاخانہ پھرتا تھا گویا مفسرین کے نزدیک حضرت مسیح ابھی اپنی ماں کی گود میں ہی تھے کہ انہوں نے جھوٹ بولنے کی مشق شروع کردی اور