تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 228
فَكُلِيْ وَ اشْرَبِيْ وَ قَرِّيْ عَيْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ پس ان کو کھائو اور(چشمہ سے پانی بھی ) پیو اور (خود نہاکر اور بچہ کو نہلا کر)اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو۔پھر اگر (اس فَقُوْلِيْۤ اِنِّيْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ عرصہ میں )تو کسی مرد کو دیکھے تو کہہ دے میں نے رحمن (خدا) کے لئے ایک روزے کی نذر کی ہوئی ہے پس آج اِنْسِيًّاۚ۰۰۲۷ میں کسی انسان سے بات نہیں کروںگی۔تفسیر۔خدا نے کہا کہ کھائو اور پیو۔اور آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔فَاِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا اور اگر تمہیں کوئی شخص نظر آئے۔توفَقُوْلِيْۤ اِنِّيْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِيًّا اُسے کہو کہ آج میں نے خدا کے لئے روزہ رکھاہوا ہے پس آج میں کسی سے بات نہیں کروں گی۔مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں روزہ سے مراد خاموشی کا روزہ ہے یعنی اُن کے لئے کلام کرنا بالکل ممنوع تھا (فتح البیان)۔لیکن میرے نزدیک یہ درست نہیں۔دراصل حضرت مریم کو بھی حضرت زکریا کی طرح روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا اور حضرت زکریا کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ اُنہیں اونچی آواز سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے سے روک دیا گیا تھا لیکن آہستہ بولنا اُن کے لئے جائز تھا۔یہاں بھی اِسی رنگ کا روزہ مراد ہے یعنی حضرت مریم کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ زیادہ باتیں نہیں کرنی بلکہ اپنا وقت ذکر الٰہی میں بسر کرنا۔پس روزہ سے مراد وہ روزہ نہیں جس میں کھا نا پینا ترک کیا جا تا ہے۔کیونکہ اُس وقت تو وہ نفاس کی حالت میں تھیں اور وہ روزہ اُس وقت ہوتا ہی نہیں۔اور پھر خصوصاََ اس لئے بھی وہ روزہ مراد نہیں لیا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلِيْ وَ اشْرَبِيْ کھااور پی جس سے معلوم ہوا کہ کھانا پینا اُن کے لئے منع نہیں تھا۔پس یہاں صوم سے مراد یہ ہے کہ زیادہ باتیں نہیں کرنی زیادہ باتیں میں اس لئے کہتا ہوں کہ ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے کہاہے قُوْلِيْ کہو۔اگر بات بالکل منع تھی تو وہ کہہ کس طرح سکتی تھیں کہ میں روزہ سے ہوں۔یہ لفظ صاف بتاتا ہے کہ اُنہیں بات کرنا بالکل منع نہ تھا وہ ایک حد تک بات کرسکتی تھیں۔لیکن ساتھی ہی ہدایت تھی کہ اپنے وقت کو ذکر الٰہی میں بسر کریں۔اِس میںحکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ ابھی بچہ پیدا ہوا تھا اس لئے لازماََ جوبھی ملتا وہ ضرور پوچھتا کہ یہ کس کا بچہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے