تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 209

تفسیر۔هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌکے یہ معنی نہیں کہ اور لوگوں کے لئے تو یہ بات مشکل ہے اور میرے لئے آسان ہے کیونکہ انسان کے لئے تو یہ چیز قطعی طور پر ناممکن ہے۔یہاں صرف خدا تعالیٰ کے پہلو کو ہی مد نظر رکھا گیا ہے متقابل بیان مد نظر نہیں اور مراد یہ ہے کہ جب میں کسی کام کا ارادہ کر لوں تو میرے لئے کوئی مشکل نہیں۔وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا اس جگہ لام لامِ عاقبت ہے یعنی ہم ضرور ایسا کریں گے اور اس کانتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ہماری ایک آیت ہو جائے گا اور لوگوں کے لئے رحمت بن جائے گا یعنی ہمارے اس فعل کے نتیجہ میں وہ لوگوںکے لئے ایک نشان بن جائے گا اور ہمارے اس فعل کے نتیجہ میں وہ لوگوں کے لئے رحمت بن جائے گا۔مراد یہ ہے کہ ہم جو اُسے بغیر باپ کے پیدا کریں گے تو یہ نشان ہو گا اس بات کہ ابراہیمی نُور اب ہم بنی اسرائیل سے بنی اسمٰعیل کی طرف منتقل کرنے والے ہیں۔رَحْمَۃً مِّنَّا اور پھر اس کے ساتھ ہی ہم اُسے لوگوں کے لئے رحمت بنادیں گے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ منقطع ہو گیا تو مسیح لوگوں کے لئے رحمت کس طرح بنا ؟اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ مسیح کے ظہور کے بعد اُس کی تعلیم سے یہود کی خشونت اور اُن کی درشتی میں جو کمی آنے والی تھی اُس کا رَحْمَۃً مِّنَّامیں ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے یہود کی خشونت کو دُور کیا جائے گا۔کیونکہ وہ دُنیا کو محبت اور پیا ر کی تعلیم د ے گا اور رحم پر اپنا سارا زور صرف کرے گا۔پس وہ لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت کا ایک ذریعہ بن جائے گا۔دوسرا جواب یہ ہے کہ بنی اسرائیل سے بنی اسمٰعیل کی طرف نعمتِ نبوت منتقل ہونے کے نتیجہ میں ہی نبی آخر الزمان نے پیداہونا تھا پس چونکہ وہ ذریعہ بننے والا تھا رحمۃٌ للعالمین کے ظہور کا اور وہ رحمت والی تعلیم کا راستہ صاف کرنے والا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اُسے اپنی رحمت کے ماتحت نازل کیا ہے یعنی ہم نے اُ س کو ذریعہ بنایا ہے اُس عظیم الشان پیشگوئی کے پورا ہونے کا جس کے نتیجہ میں نبی آخر الزما ن نے پیداہونا ہے۔گویا مسیح ایک کُنجی تھا اس دروازہ کی جس کے کھلنے پر خدا تعالیٰ کی ایک بہت بڑی رحمت نے دنیا پر نازل ہونا تھا۔یہ قرآن کریم کا کتنا بڑا کمال ہے کہ مسیح سردار تو عیسائیوں کے ہیں لیکن انجیل میں جہاں مسیح کی پیدائش کی پیشگوئی ہے وہاں یہ ذکر تک نہیں کیا گیا کہ مسیح دنیا کو محبت کی تعلیم دے گا۔مگر قرآن مجید نے اُس کی پیدائش کی پیشگوئی میں ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش سے پہلے مریم کو بتا دیا تھا کہ وہ محبت کی تعلیم دے گا۔یہ مضمون قرآن کریم کے انصاف اور کمال پر دلالت کرتا ہے اور انجیل کے ناقص ہونے کی دلیل ہے۔مسیح ؑ کا سب سے بڑا کمال اس کی رحم کی تعلیم تھی۔مگر انجیل نے اس کی پیدائش کی پیشگوئی میں اس کا ذکر تک نہیں کیا ہاں قرآن نے کیا ہے