تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 208
قضاء الٰہی کا ذکرکیا جائے تو وہ قدر سے بڑھ کر ہوتی ہے۔کیونکہ قدر صرف ایک معیار یا سکیم کے تجویز کرنے کو کہتے ہیں۔اور قضاء کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس سکیم کے جاری کرنے کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب شام تشریف لے گئے اور وہاں طاعون پڑ گئی۔جو طاعونِ عمواس کے نام سے مشہور ہے اور حضرت ابو عبیدہ ؓ اور اسلامی لشکر نے آپ کا استقبال کیا تو اس وقت صحابہ ؓ نے مشورہ دیا کہ چونکہ اس وقت علاقہ میں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے اس لئے آپ کو واپس تشریف لے جانا چاہیے۔حضرت عمر ؓ نے ان کے مشورہ کو قبول کرکے فیصلہ کرلیا کہ آپ واپس لوٹ جائیں گے۔حضرت ابو عبیدہ ؓ ظاہرپر بڑا اصرار کرنے والے تھے انہیں جب اس فیصلہ کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ اَتَفِرُّمِنَ الْقَضَاءِ کیا آپ قضاء الٰہی سے بھاگ رہے ہیں؟ حضرت عمر ؓ نے کہا أَفِرُّ مِنْ قَضَاء اللہِ اِلَی قَدَرِ اللہِ میں اللہ تعالیٰ کی قضاء سے اس کی قدر کی طرف بھاگ رہاہوں یعنی اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فیصلہ ہے اور ایک عام فیصلہ۔یہ دونوں فیصلے اسی کے ہیں کسی اور کے نہیں۔پس میں اس کے فیصلہ سے بھاگ نہیں رہا بلکہ اس کے ایک فیصلہ سے اس کے دوسرے فیصلہ کی طرف جا رہاہوں۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ کو جب طاعون کی خبر ملی اور آپ نے مشورہ کے لئے لوگوں کواکٹھا کیا تو آپ نے دریافت کہ شام میں تو پہلے بھی طاعون پڑا کرتی ہے پھر لوگ ایسے موقعہ پر کیاکیاکرتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ جب طاعون پھیلتی ہے تو لوگ بھاگ کر ادھر ادھر چلے جاتے ہیں اور طاعون کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔اسی مشورہ کی طرف آپ نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ایک عام قانون بھی بنایا ہوا ہے کہ جوشخص طاعون کے مقام سے بھاگ کر ادھر ادھر کھلی ہوا میں چلا جائے وہ بچ جاتاہے۔پس جبکہ یہ قانون بھی خدا تعالیٰ کا ہی بنایا ہوا ہے۔تو میں اس کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا۔بلکہ اس کی قضاء سے قدرکی طرف لوٹ رہاہوں۔یعنی خدا تعالیٰ کے خاص قانون کے مقابلہ میں اس کے عام قانون کی طرف جا رہا ہوں۔پس تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں بھاگ رہا ہوں میں صرف ایک قانون سے اُس کے دوسرے قانون کی طرف جارہا ہوں۔پس حضرت عمر ؓنے بھی قضاء اور قدر میں فرق کیاہے اور مفردات والے لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے اس قول کا مفہوم یہی تھا۔کہ اِنَّ الْقَدْرَ مَا لَمْ یَکُنْ قَضَاءً فَمَرْجُوٌّ اَنْ یَدْفَعَہُ اللہُ۔یعنی جب تک قدر قضاء کارنگ اختیار نہ کرلے اُس وقت تک امید ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ اُسے ٹلادے۔گویا آپ نے بتایا کہ چونکہ میں ابھی اس ملک میں داخل نہیں ہوااور خدا تعالیٰ نے ایک دوسرا قانون بھی بنایا ہو ا ہے کہ جو لوگ طاعون زدہ مقام سے اِدھر اُدھر بھاگ جاتے ہیں وہ بچ جاتے ہیں۔اِس لیے میں اُسی کے ایک دوسرے قانون سے فائدہ اُٹھا رہا ہوں۔فَاِذَا قَضَی فَلَامُدْفِع لَہٗ لیکن جب وہ فیصلہ کردے تو پھر اُس کے فیصلہ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔