تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 210
جو اس کے کامل اور سچا ہونے کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تمام انبیاء اپنے اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ کی آیت ہوتے ہیں۔مگر عیسائیوں کی عادت ہے کہ وہ بعض الفاظ سے نا جائز فائدہ اٹھا نے کی کوشش کرتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا حضرت مسیح کی اہمیت پر دلالت کرتے ہیں اور ہم بھی اُن کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔مگر عیسائی اِس قسم کے الفاظ سے انہیں غیر معمولی اہمیت دے دیتے ہیں۔ہمارا اُن سے یہ اختلاف نہیں کہ ہم مسیح کو نعوذباللہ ادنیٰ درجہ کا نبی سمجھتے ہیں۔ہم بھی مسیح کو خدا تعالیٰ کا نبی اور رسول سمجھتے ہیں مگر ہم یہ نہیں سمجھتے کہ انہیں کوئی ایسی فوقیت حاصل تھی۔جو دوسرے نبیوں کو حاصل نہیںتھی یا اُن میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ کمالات پائے جاتے تھے۔بہر حال اس آیت میں حضرت مسیح کے متعلق جو آیت کا لفظ آیا ہے۔عیسائی اُس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اُنہیں قرآن نے غیر معمولی اہمیت دی ہے مگر یہ درست نہیں۔قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ اس نے آیت کا لفظ اور لوگوں کے متعلق بھی استعمال کیا ہے چنانچہ ایک نبی کے متعلق آتا ہے۔وَ لِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ (البقرۃ:۲۶۰)اس جگہ پہلے ایک نبی کی رئو یا بیان کی گئی ہے اور پھر اس رؤیا کو بیان کرکے کہا گیا ہے کہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم تجھے لوگوں کے لئے آیت بنادیںگے یہ حزقیل نبی تھے جوموسیٰ ؑ اور دائود ؑسے درجہ میں چھوٹے تھے۔پھر نبی تو الگ رہے اُونٹنی تک کو آیت کہا گیا ہے۔چنانچہ اعراف ع۱۰ میں آتا ہے هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً (الاعراف:۷۴)۔یہ خدا کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے آیت ہے۔اگر اونٹنی آیت ہو سکتی ہے تو مسیح کے آیت ہونے میں اس کی کونسی فضیلت رہی۔پھر فرعون کے متعلق فرماتا ہےفَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً(یونس:۹۳) ہم آج تیرے جسم کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد میں آنے والوں کے لئے ایک آیت بن جائے۔گویا قرآن کریم میں مسیح کے علاوہ دوسرے رسولوں کو بھی آیت کہا گیا ہے۔جانوروں کو بھی آیت کہا گیا ہے بلکہ ایک دشمن خدا اور کافر فرعون کو بھی آیت کہا گیا۔پس آیت کے اتنے ہی معنے ہیں کہ اُس کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی صداقت نظر آجاتی ہے۔یہ معنے نہیں کہ اُسے دوسروں سے کوئی بڑا درجہ حاصل ہوجاتا ہو۔اِسی طرح یہ جو فرمایا کہ رَحْمَۃً مِّنَّا یہ بھی کوئی خاص فضیلت کی بات نہیں۔حضرت یحیٰی کے متعلق اس سے پہلے فرمایا گیا تھا کہ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا اور حنان کا لفظ عربی زبان میں رحمت کے معنو ں میں ہی استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ لُغت والے لکھتے ہیں کہ حنان اس اظہا ر محبت کو کہتے ہیں جس میں آواز ہو۔جیسے ماں کو بعض دفعہ جوش آتا ہے تو وہ اپنے بچہ کو پچکارنے لگ جاتی ہے اور زبان سے بھی محبت