تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 207
کے معنے یہ ہوں گے کہ چونکہ ان کو بلا مرد کے ایک بچہ کی ولادت کی خبر دی جا رہی تھی اس لئے وہ حیرت ظاہر کر رہی ہیں کہ کیا خدا مجھ سے یہ سلوک کرے گا۔بہرحال اس آیت سے صاف ثابت ہے کہ حضرت مریم نے یہی سمجھا تھا۔کہ بغیر شادی کے اور شادی سے پہلے اولاد ہو گی۔کیونکہ لَمْ يَمْسَسْنِيْ بتاتا ہے کہ وہ سمجھتی تھیں کہ اولاد اس رؤیا کے دن بعد کے شادی سے پہلے ہو گی ورنہ ماضی کے ذکرکی نفی کے معنے کیا ہوئے۔دوسرے لَمْ اَكُ بَغِيًّا بھی یہی بتاتا ہے۔پہلاحصہ جائز تعلق کی نفی کرتا ہے اور دوسرا ناجائز تعلق کی۔آئندہ شادی کے ہونے یا نہ ہونے کا وہ ذکر تک نہیں کرتیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے اس وقت یہ سوال نہیں تھا کہ مجھے وقف کیا ہوا ہے۔اس لئے میرے ہاں اولاد نہیں ہو سکتی بلکہ اس وقت ان کے سامنے اپنی ماضی کی حالت تھی جس میں اولاد ناممکن تھی۔اگر آئندہ تعلقات کے نتیجہ میں وہ اولاد کاوعدہ سمجھتیں تو وہ یاتو یہ کہتیں کہ میری تو شادی نہیں ہو سکتی پھر اولاد کیسی اور یا پھر شادی کا احتمال تھا وہ اس وعدہ پر تعجب نہ کرتیں۔قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰيَةً (فرشتہ نے) کہا (بات) اسی طرح (ہے جس طرح تو نے کہی) (مگر) تیرے رب نے یہ کہا ہے کہ یہ (کام) مجھ پر لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا۰۰۲۲ آسان ہے اور (ہم اس لئے یہ لڑکا پیدا کریں گے) تاکہ اسے لوگوں کے لئے ایک نشان بنائیںاور اپنی طرف سے رحمت ( کاموجب بھی) بنائیں اور یہ (امر) ہماری تقدیر میں طے ہو چکا ہے۔حلّ لُغَات۔مَقْضِیًّا۔عربی زبان میں قضا اور قدر دو الگ الگ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں مگر عام طور پر لوگ ان دونوں لفظوں کو ہم معنی سمجھتے ہیں۔حالانکہ حقیقتاً یہ ہم معنے نہیں۔مفردات میں لکھا ہے اَلْقَضَاءُ فَصْلُ الْاَمْرِ قَوْلًا کَانَ ذَالِکَ اَوْ فِعْلًا۔قضاء کسی امرکے فیصلہ کرنے کا نام ہے خواہ وہ قولاً ہو یا فعلاً ہو وَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا عَلٰی وَجْھَیْنِ اِلٰھِیٍّ و بَشَرِیٍّ اور یہ قضاء الٰہی بھی ہوتی ہے اور بشری بھی۔یعنی کبھی خداکے متعلق قضاء کا لفظ استعمال ہو جاتا ہے اور کبھی بشر کے متعلق قضاء کا لفظ استعمال ہو جاتا ہے۔والْقَضَاءُ مِنَ اللہِ تَعَالیٰ اَخَصُّ مِنَ الْقَدَرِ لِاَنَّہُ الْفَصْلُ بَیْنَ الْتَقْدِیْرِ فَالْقَدَرُ ھُوَ التَّقْدِیرُ وَالْقَضَاءُ ھُوَ الْفَصْلُ والْقَطْعُ یعنی جب