تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 185
مواہب الرحمٰن وغیرہ میں یہ مضمون پایا جاتا ہے۔اور درجنوں دفعہ ہم نے آپ کی زبان سے بھی یہ بات سنی ہے کہ حضرت مریم بھی ایک علامت تھیں اس خدائی انتباہ کی کہ نبوت اب بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں منتقل ہونے والی ہے اور موسیٰ ؑ کی اس پیشگوئی کا ظہور بالکل قریب ہے جس میں اس نے بتایا تھا کہ ’’خدا وند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں (یعنی بنی اسماعیل) میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔‘‘ (استثناء باب ۱۸آیت ۱۵) پس چونکہ مریم بھی ایک خدائی نشان تھیں اس لئے ہمیں پوری طرح تحقیق کرنی چاہیے کہ بائبل اور قرآن نے ان کا وجود کس شکل میں پیش کیا ہے۔عربی زبان میں حضرت مسیح ؑ کی والدہ کے لئے مریم کا لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن عبرانی زبان میں اس کا تلفظ کئی رنگ میں آتا ہے۔چنانچہ ماریہؔ۔مریمؔ۔مریوم۔یہ تین تلفظ ہیں جن میں اس لفظ کو ادا کیا جاتا ہے۔انجیل میں جہاں حضرت مسیح کی والدہ کا ذکر آتا ہے وہاں تو مریم کا لفظ ہی استعمال کیا گیا ہے مگر جہاں دوسری عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے وہاں کا نام کبھی مریم آتا ہے اور کبھی ماریہ۔غرض مریمؔ، ماریہؔ اور مریوم یہ مختلف تلفظ ہیں جو اس زمانہ کے لوگوں میں رائج تھے۔مگر غالباً حضرت مسیح کی عظمت کی وجہ سے ان کی والدہ کے لئے صرف ایک ہی نام رکھا گیا تھا یعنی مریم۔سب سے پہلے بائبل میں یہ نام تورات کے صحیفہ میں آیا ہے اور اس میں حضرت موسیٰ ؑ کی ہمشیرہ کا یہ نام بتایا گیا ہے۔غالب گمان یہ ہے کہ یہی وہ بہن تھی جو موسیٰ کے دریا میںپھینکنے کے بعد ان کے پیچھے پیچھے گئی جیسا کہ قرآن کریم میں اس کا ذکر آتا ہے (القصص:۱۲)مگر اس کے نام کا تلفظ بائبل میں مِریم آتا ہے۔یعنی میم کی زیر سے۔اس کے بعد یہ نام دوسری دفعہ نئے عہد نامہ میں آتا ہے اور اس جگہ کا تلفظ مَریم میم کی زبر سے آتا ہے۔(متی باب ۱ آیت ۱۸) اس لفظ کے معنوں میںاختلاف ہے۔بعض نے لکھا ہے اس کے معنے تلخ سمندر کے ہیں۔بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنے سمندر کا ستارہ کے ہیں بعض نے کہا ہے کہ مریم کے معنے ’’دن کی ملکہ‘‘ کے ہیں۔بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنے ’’ماسٹر کی مہر‘‘ کے ہیں۔بعض نے اس کے معنے سمندر کے استاد کے لئے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مریم کے معنے سمندر کی مر (MYRH)کے ہیں۔مِر ایک قسم کی گوند ہوتی ہے جو دوائوں میں استعمال ہوتی ہے۔درحقیقت جن لوگوں نے عبرانی زبان کی تحقیق کی ہے وہ کہتے ہیں کہ مریم کے جو مختلف معنے کئے گئے ہیں اس