تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 186
کی وجہ یہ ہے کہ اس کے مشابہ بعض اور الفاظ عربی اور ایرانی اور دوسری زبانوں میں پائے جاتے ہیں لوگوں نے ان زبانوں کے ملتے ہوئے الفاظ سے یہ معنے اخذ کر لئے اور اس طرح اختلاف پیدا ہو گیا۔مثلاً ’’سمندر کے مِر‘‘ کے جو معنے کئےگئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کی بہن کا نام تورات میں مِریم آتا ہے اور مِرْعربی زبان میں ایک گوند کانام ہے اور یَم ْسمندر کو کہتے ہیں۔پس انہوں نے دوسری زبانوں کے مشابہ الفاظ کو دیکھ کر مِریم کا یہ ترجمہ کر لیاکہ ’’سمندر کا مِر‘‘ اسی طرح بعض معنے ایرانی ا ور دوسری زبانوں کے ملتے ہوئے الفاظ سے اخذ کئے گئے ہیں۔لیکن جن لوگوں نے HEBREWزبان کی پوری تحقیق کی ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ اس کے معنے یا تو سینہ زور کے ہیں یا موٹی کے ہیں۔گویا اس کے ایک معنے خود سر کے اور ایک موٹاپے کے کئے جاتے ہیں۔خود سر کا مفہوم بھی موٹاپے کی طرف ہی جاتا ہے کیونکہ جو مضبوط بچہ ہوتا ہے وہی اَڑتا اور مقابلہ کرتا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ عام طور پر جو بچے مشکل سے پیدا ہوتے تھے اور وزنی ہوتے تھے ان کا نام مریم رکھا جاتا تھا بعض نے کہا ہے کہ اصل میں ہر ملک کی خوبصورتی کا معیار الگ الگ ہوتا ہے۔سامی نسلوں میں یعنی یہودیوں اور عربوں میں موٹاپا خوبصورتی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔اسی وجہ سے بَانَتْ سُعَادُ میں شاعر اپنی محبوبہ کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ھَیْفَاءُ مُقْبِلَةً عَجْزَاءُ مُدْبِرَۃً یعنی جب وہ سامنے سے آ رہی ہو تو پتلی کمر والی دکھائی دیتی ہے اور جب واپس جا رہی ہوتو موٹی دکھائی دیتی ہے۔تو چونکہ موٹاپا اُن میں خوبصورتی کا معیار تھا اس لئے جو لڑکی خوبصورت ہوتی تھی اور موٹی بھی ہوتی تھی اس کا نام مریم رکھ دیا جاتا تھا۔لیکن بعض نے کہا ہے کہ صرف خوبصورتی کی وجہ سے یہ نام رکھا جاتا تھا۔موٹاپے کو خاص طور پر ملحوظ نہیں رکھا جاتا تھا۔یہ معنے غالباً انہوں نے اس لئے کر لئے ہیں کہ حضرت مریم کی عیسائیوں میں جو تصویریں پائی جاتی ہیں ان میں وہ زیادہ موٹی نظر نہیں آتیں۔انجیل میں جیسا کہ میں بتا چکاہوں کہ مریمؔ اور ماریہؔ کے نام تبدیل ہوتے رہتے ہیں یعنی ایک دوسرے کی جگہ بولے جاتے ہیں۔لیکن حضرت مسیح ؑ کی والدہ کے لئے ہمیشہ مریم کا لفظ ہی استعمال ہوتا ہے۔معلوم ہوتا ہے اس زمانہ میں یہ نام بہت معروف تھا کیونکہ انجیل میں کئی عورتوں کا یہ نام مذکور ہے۔مریم کی زندگی کے حالات انجیل قبل از ولادتِ مسیح مریم کے حالات کے بارہ میں بالکل خاموش ہے۔متی باب ۱آیت۸ ۱سے صرف اتنا