تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 184
کہتے ہیں جس کا منہ مشرق کی طرف ہو۔(اقرب) تفسیر۔وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مَرْيَمَ کے یہ معنے ہیں کہ تو کتاب میں مریم کا ذکر کر یاکتاب میں مریم کا جو ذکر ہے اس کو اپنے ذہن میں لا۔الْکِتٰبِ سے مراد گر قرآن کریم لیا جائے تو اس کا یہ مفہوم ہو گا کہ اس قرآن کے ذریعہ تو مریم کا ذکر بیان کر۔لیکن الْکِتٰبِ سے مراد بائبل بھی ہو سکتی ہے۔اس صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ بائبل میں مریم کا جو ذکر آتا ہے اس کو بیان کر یا اسے اپنے ذہن میں لا۔یہ ظاہر ہے کہ بائبل میںبہت کچھ غلط واقعات اپنی طرف سے شامل کر دئے گئے ہیں پس وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مَرْيَمَ کے یہ معنے ہوں گے کہ بائبل میں مریم کے جوحالات بیان کئے گئے ہیں ان کو بھی دیکھو۔اور پھر قرآن کریم میں جو حالات بیان ہوئے ہیں ان کو پڑھو۔اور دونوں کا مقابلہ کرکے اندازہ لگائو کہ مریم کے حالات کس کتاب نے زیادہ عمدگی کے ساتھ ان کی شان کے مطابق پیش کئے ہیں۔اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے پہلے حضرت زکریا علیہ السلام کا واقعہ بیان کرکے یحییٰ کی پیدائش کا ذکر کیا۔کیونکہ پیشگوئیوں کے مطابق یحییٰ کی پیدائش مسیح ؑ کے لئے بطور ارہاص تھی اور مسیح ؑ دنیامیں اس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتے تھے جب تک کہ ان سے پہلے ایلیاہ کا بروز ظاہر نہ ہو جاتا۔اب خدا تعالیٰ یحییٰ کے ذکر کے بعد مریم کا ذکر کرتا ہے۔کیونکہ جس طرح یحییٰ کا وجود مسیح ؑ سے پہلے ضروری تھااور یحییٰ کا آنا ایک نشان کے طور پر تھا اسی طرح مسیح کی بن باپ ولادت بھی یہود کے لئے ایک عظیم الشان نشان تھی۔کیونکہ اس ذریعہ سے یہود کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ اب بنی اسرائیل میں سے نبوت کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس نعمت کو ان کے دوسرے بھائیوں کی طرف منتقل کر دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہم نے بیسیوں دفعہ سنا ہے کہ مسیح کی بن باپ ولادت نبوت کا کانٹا پھیرنے اور یہود کو یہ بتانے کے لئے تھی کہ بنی اسرائیل سے خدا تعالیٰ نے اب اپنا منہ موڑ لیا ہے۔اور وہ ان کی بداعمالیوں کی سزا میں اب نبوت کا سلسلہ ایک دوسری قوم میں منتقل کرنے والا ہے(مواہب الرحمن روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۹۰،۲۹۱)۔چونکہ سلسلہ نسب باپ کی طرف سے چلتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے مسیح کو بن باپ پیدا کیا۔یہ بتانے کے لئے کہ اب یہود میں کوئی مرد ایسا نہیں رہا جس کی اولاد میں سے کسی کو نبی بنایا جا سکے۔چناچہ اب ہم جس کو نبی بنا رہے ہیں بغیر باپ کے بنا رہے ہیں صرف اس کی ماں اسرائیلی ہے مگر آنے والے نبی میں اتنا حصہ بھی نہیں ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسرائیل سے اپنے تعلقات کلی طور پر منقطع کر لے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں بھی اس مسئلہ کا بار بار ذکر فرمایا ہے چنانچہ