تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 180
اس پرسلامتی ہو گی۔اس سے بعض لوگوں کا ذہن اس طرف منتقل ہوا ہے کہ یہاں سلامتی سے جسمانی سلامتی مراد ہے اور چونکہ یہ سلامتی ان کی موت کے دن کے لئے بھی مقدر تھی۔اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام شہید نہیں ہوئے۔حالانکہ اگر آپ پر سلامتی نازل ہونے کا یہی مفہوم ہے کہ آپ قتل سے محفوظ رہے تو قیامت کے دن آپ پر سلامتی نازل ہونے کے کیا معنے ہیں۔کیا قیامت کے دن بھی کوئی دشمن آپ کے قتل کی تدبیر کرے گا کہ اس دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی سلامتی آپ کے لاحق حال ہو گی۔اگر سلامتی کا اس جگہ یہی مفہوم لیا جائے کہ اس میں دشمنوں کی تدابیر قتل کا رد ہے۔تو اس کے معنے یہ بنیں گے کہ جس دن حضرت یحییٰ پیدا ہوئے اس دن بھی وہ قتل سے محفوظ رہیں گے۔جس دن وہ فوت ہوں گے اس دن بھی وہ قتل نہیں ہوں گے اور جب قیامت کے دن وہ دوبارہ زندہ ہوں گے تو اس دن بھی قتل نہیں ہوں گے۔اب بتائو کیا قیامت کے دن بھی وہ قتل ہو سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے متعلق يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا پر بھی سلامتی کا وعدہ کرنا پڑا۔درحقیقت اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں تین مختلف زمانوں کو بیان کیا ہے مگر لوگوں نے غلطی سے اس کا مفہوم کچھ کاکچھ سمجھ لیا۔دراصل انسانی زندگیاں تین ہوتی ہیں۔ایک زندگی شروع ہوتی ہے انسانی پیدائش سے اور ختم ہوتی ہے انسانی موت پر۔دوسری زندگی موت سے شروع ہوتی اور قیامت تک قائم رہتی ہے۔اس زندگی کو برزخی زندگی کہا جاتا ہے۔مگر اس کے بعد ایک تیسرا زمانہ ہے۔جسے قرآن کریم نے یوم البعث قرار دیا ہے اور جس دن کامل طور پر جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل کر دئے جائیں گے۔یہ تین ابتدائی نقطے ہیں انسانی زندگی کے۔پیدائش ابتدائی نقطہ ہے حیٰوۃ الدنیا کا۔موت ابتدائی نقطہ ہے حیات برزخی کا۔اور یوم البعث ابتدائی نقطہ ہے حیات اخروی کا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے تینوں نقطہ ہائے حیات میں سلامتی ہی سلامتی ہے اس کی پیدائش پر بھی ہماری طرف سے سلامتی نازل ہو گی اور وہ زندگی بھر اس سے متمتع ہوتا رہے گا۔پھر جب وہ وفات پا ئے گا تب بھی اس پر سلامتی نازل ہو گی اور وہ عالم برزخ میں بھی سلامتی سے حصہ پائے گا اور اس کے بعد جب یوم البعث آئے گا تو اس دن بھی اس پر سلامتی نازل ہو گی اوروہ اخروی حیات میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت رہے گا۔غرض اس آیت میں قتل کا کوئی ذکر ہی نہیں۔اس میں تین زندگیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام ان تینوں زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کی سلامتی کے مورد ہوں گے مگر یہ سلام صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے لئے نہیں آیابلکہ سب مومنوں کے لئے آیا ہے۔چنانچہ سور ہ انعام ع۶۔۱۲