تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 181
میں آتا ہے وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ(الانعام:۵۵)۔یعنی جب تیرے پاس ہماری آیتوں پر ایمان لانے والے لوگ آئیں تو ان کو ہمارا یہ پیغام دے دینا کہ تم پر سلام ہو تمہارے رب نے تمہارے لئے اپنے آپ پر رحمت واجب کرلی ہے۔یہ سلام بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔حالانکہ ان میں سے کئی شہید ہوئے۔پھر سب مومنوں کی نسبت آتا ہے۔الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ١ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(النحل:۲۹) یعنی جن لوگوں کی روح فرشتے اس حالت میں نکالتے ہیں کہ وہ پاک ہوتے ہیں فرشتے انہیں کہتے چلے جاتے ہیں کہ تم پرسلامتی ہو۔جائو اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائو۔اب یہ تو ظاہر ہے کہ فرشتے مومنوں کی جان کئی طرح نکالتے ہیں۔بعض کی شہادت کے ذریعے نکالتے ہیں تو کیا اگر سلامتی کے معنے دشمنوں کے ہاتھوں سے نہ مارے جانے کے ہیں تو یہ عجیب بات نہ ہو گی کہ دشمن ان کو قتل بھی کر رہا ہو گا اور فرشتے ساتھ ساتھ سلام بھی کرتے جا رہے ہوں گے۔گویا جو بات ہو رہی ہو گی اس کی تردید کر رہے ہوں گے۔اسی طرح سورئہ طہ میں آتا ہے وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى(طہ:۴۸)جو بھی ہدایت کے تابع چلے اس پر سلامتی ہے۔اگر سلام کے معنے دشمنوں کے قتل سے محفوظ رہنے کے لئے جائیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ کبھی کوئی مومن قتل نہیں ہوتا پھر سورئہ مائدہ ع ۳۔۷میں مومنوں کی نسبت فرمایا ہے يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ (المائدۃ:۱۷)یعنی قرآن کریم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان کو جو خدا تعالیٰ کی رضا کے تابع ہوتے ہیں سلام کے راستے دکھاتا ہے۔اب اگر سلام کے معنے دشمنوں کے ہاتھوں قتل نہ ہونے کے کئے جائیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو ایسی زندگی بخشتا ہے کہ وہ کبھی دشمن کے ہاتھ سے قتل نہیں ہوتے جوبالبداہت غلط ہے۔اصل بات یہ ہے کہ سلام ایک وسیع معنوں کا حامل لفظ ہے بعض موقعوں پر یقیناً اس کے یہ معنے بھی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ دشمن کے کسی حملہ سے بچا لے گا۔لیکن بعض جگہ بیماری سے بچانے کے اور بعض جگہ ناکامی سے بچانے کے معنے ہوں گے۔بہرحال بغیر کسی زبردست قرینہ کے ایک عام لفظ کے کوئی خاص معنے کرنے اور وہ بھی ایسے جو تاریخی واقعات کے سراسر خلاف ہوں کسی صورت میں بھی درست نہیں ہو سکتے۔پس یہاں سلامتی سے جسمانی سلامتی مراد نہیں بلکہ روحانی سلامتی مراد ہے۔اگر جسمانی سلامتی مراد ہو تو موت کے دن بھی اس پر سلامتی ہونے کے کوئی معنے نہیں ہو سکتے۔کیونکہ انسان جب بھی مرتا ہے کسی بیماری یا حادثہ سے مرتا ہے اور جب وہ کسی بیماری یا حادثہ سے ہلاک ہو گا تو اس کے لئے سلامتی کہاں ہوئی۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جسمانی سلامتی مراد نہیں بلکہ روحانی سلامتی مراد ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ جس دن وہ پیدا ہو گا اس دن بھی اس پر سلامتی ہو گی