تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 179

یہ خوبیاں جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں یہ بھی اسی لئے بیان کی ہیں کہ عیسائی حضرت مسیح ؑکے متعلق یہ کہا کرتے ہیں کہ اس نے کیا ہی اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی ہے کہ ’’جو کوئی تیرے داہنے گالے پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔‘‘ (انجیل متی باب ۵آیت۳۹) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یحییٰ بھی جبار نہیں تھا۔اس نے جو تعلیم دی اس میں بھی ظلم کا کوئی پہلو نہیں تھا۔اسی طرح عیسائی حضرت مسیح ؑکی یہ بڑی خوبی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ’’ جو قیصر کا ہے قیصرکو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو‘‘ (انجیل متی باب ۲۲آیت۲۱) اللہ تعالیٰ فرمایا ہے کہ یحییٰ بھی عِصِیًّا نہیں تھا۔اس نے بھی یہی تعلیم دی تھی کہ نافرمانی مت کرو۔اور قیصر کا حق قیصر کو اور خدا کا حق خدا کو دو۔غرض وہ ساری خوبیاں جو حضرت مسیح ؑ میں بیان کی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے رنگ میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بھی تھیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت یحییٰ حضرت مسیح ؑ سے درجہ میں کم تھے لیکن یہاں درجہ اور مقام پر بحث نہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ اس بات کا ذکر کر رہا ہے کہ حضرت مسیح ؑ میں کوئی نرالی خصوصیت نہیں تھی۔چونکہ عیسائی حضرت مسیح کو غیر معمولی عظمت دیتے ہیں اور کہتے ہیں ان میں بعض اخلاق مخصوص طور پرپائے جاتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کو رد کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ ساری خوبیاں حضرت یحییٰ ؑ میں بھی پائی جاتی تھیں۔اگر ان باتوں کی وجہ سے تم عیسیٰ کو فضیلت دیتے ہو تو یحییٰ کو کیوں فضیلت نہیں دیتے؟ وَ سَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ يَمُوْتُ وَ يَوْمَ يُبْعَثُ اور جب وہ پیدا ہوا تب بھی اس پر سلامتی تھی اور جب وہ مرے گا اور جب وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا حَيًّاؒ۰۰۱۶ (تب بھی اس پر سلامتی ہوگی) تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی نسبت فرماتا ہے کہ جب وہ پیدا ہوا تب بھی اس پر سلامتی تھی اور جب وہ مرے گا تب بھی اس پر سلامتی ہو گی اور جب وہ زندہ کرکے دوبارہ اٹھایا جائے گا تب بھی