تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 178

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَيْهِ وَ لَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا۰۰۱۴ اور وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا تھا اور ظالم اور نافرمان نہیں تھا حلّ لُغَات۔بَرٌّ بَرَّفِیْ یَمِیْنِہِ کے معنے ہوتے ہیں صَدَقَ۔اس نے اپنی قسم کو پورا کرکے دکھایا یعنی اپنی بات کا پکا اورسچا نکلا۔اور بَرَّ وَالِدَہُ کے معنے ہوتے ہیں اَحْسَنَ الطَّاعَةَ اِلَیْہ وَ رَفَقَ بِہ۔اس نے اپنے والد کی پوری اطاعت کی اور اس کے ساتھ نرمی اور محبت کا سلوک کیا۔وَ تَحَرّٰی مُحَابَّہٗ وَ تَوَفّٰی مَکَارِھَہٗ اور جو باتیں اس کو پسند تھیں ان کو اس نے اختیار کیا اور جو باتیں اس کو ناپسند تھیں ان کو اس نے چھوڑ دیا فَھُوَبَرٌّ بِہٖ وَبَارٌّ۔ایسے شخص کو بَرٌّ بھی کہتے ہیں اور بَارٌّ بھی کہتے ہیں (اقرب)۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان اپنے باپ کو خوش کرنے کے لئے ظاہری اور باطنی طور پر وہ تمام اخلاق اپنے اندر پیدا کر لے جن کو وہ پسند کرتا ہو اور ان تمام برائیوں کو ترک کر دے جن کو وہ ناپسند کرتا ہو تو اس وقت اسے اسے بَرٌّ اور بَارٌّ کہتے ہیں۔لیکن بَرٌّ میں بَارٌّ سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے۔جَبَّارًا۔جَبَرَالْعَظْمَ کے معنے ہوتے ہیں اَصْلَحَہُ مِنْ کَسْرٍ۔اس نے ٹوٹی ہوئی ہڈی کو درست کیا۔یہ متعدی اور لازم دونوں طرح استعمال ہوتا ہے یعنی جَبَرَ الْعَظْمَ کے تو یہ معنی ہوں گے کہ اس نے ٹوٹی ہڈی کو درست کیا۔لیکن جَبَرَالْعَظْمُ بِنَفْسہٖ کے معنے ہوں گے صَلُحَ بَعْدَ الْکَسْر۔ہڈی ٹوٹ گئی تھی مگر پھر درست ہو گئی اور جَبَرَالْفَقِیْرَ کے معنے ہوتے ہیں اَغْنَاہُ اس نے فقیر کو غنی کر دیا۔اور جَبَرَ فُلَانًا عَلَی الْاَمْرِ کے معنے ہوتے ہیں اَکْرَھَہٗ۔اس نے فلاں کو کسی کام پر سختی سے مجبور کیا (اقرب) گویا جہاں اس کے معنے اصلاح کرنے کے ہیں وہاں کسی کی مرضی کے خلاف اس پر ظلم کرکے جبراً اس سے کام لینے کے بھی ہیں گویا ایک معنے ایسے ہیں جن میں نیکی اور اصلاح پائی جاتی ہے اور ایک معنے ایسے ہیں جن میں سختی اور ظلم پایا جاتا ہے۔عصیًّا عِصِیًّابمعنے عاصی استعمال ہوا ہے یعنی وہ نافرمان نہیں تھا۔(اقرب) تفسیر۔بَرًّۢا بِوَالِدَيْهِ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس کا اپنے ماں باپ سے یہ سلوک تھا کہ وہ ان کا پورا مطیع اور فرمانبردار تھا۔وہ ان تمام اخلاق فاضلہ کو پسند کرتا تھا جن کو وہ پسند کرتے تھے اور ان تمام برائیوں سے بچتا تھا جن کو وہ ناپسند کرتے تھے۔وَ لَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا۔اور پھروہ جبار اور نافرمان بھی نہیں تھا۔