تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 175

ذکر الہٰی کروں گا تم بھی صبح و شام ذکر الٰہی کرو۔بُكْرَةً چونکہ صبح سے لے کر دوپہر تک کے وقت کو کہتے ہیں اور عَشِيًّا کا لفظ زوال سے لے کرر ات تک کے وقت پر استعمال ہوتا ہے۔اس لئے بُكْرَةً وَّ عَشِيًّا سے مراد یہ ہے کہ تم سارا دن عبادت کرو۔میں بھی یہ ایام عبادت میں بسر کروں گا۔يٰيَحْيٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَيْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِيًّاۙ۰۰۱۳ (اس کے بعد یحییٰ پیدا ہو گیا اور ہم نے اسے کہا) اے یحییٰ ! تو (الٰہی) کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لے۔اور ہم نے وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِيًّاۙ۰۰۱۴ اسے چھوٹی عمر میں ہی (اپنے) حکم سے نواز تھا۔(اور یہ بات) ہماری طرف سے بطور مہربانی (اور شفقت کے تھی) اور (اسے )پاک کرنے کے لئے (تھی)اور وہ بڑ متقی تھا۔حل لغات۔حَنَانٌ کے کئی معنے ہیں اس کے معنے رحمت کے بھی ہیں۔رزق کے بھی ہیں۔برکت کے بھی ہیں۔دل کی نرمی کے بھی ہیں۔ہیبت کے بھی ہیں اور وقار کے بھی ہیں(اقرب) اس جگہ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے اسے دل کی نرمی بخشی۔تفسیر۔اس آیت سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ تورات اور اس کے صحیفے اس وقت تک منسوخ نہیں ہوئے تھے۔کیونکہ حضرت یحییٰ علیہ السلام پر کسی نئی کتاب کے اترنے کے نہ مسلمان قائل ہیں اور نہ عیسائی۔پس اَلْکِتٰبَ سے مراد تورات ہی ہے جس کومضبوطی سے پکڑنے کا حضرت یحییٰ علیہ السلام کو حکم ہوا اور پھر آگے مسیح نے بھی یوحنا سے بپتسمہ لیا۔گویا اسی کے دین کی اتباع کا اقرار کیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کوئی نئی کتاب نہیں لائے۔کیونکہ جب ایک ہی زمانہ میں دو نبی ظاہر ہو رہے تھے اور ایک ہی قوم کی طرف آنے والے تھے اور ایک دوسرے کا شاگر دہونے والا تھا۔تو کس طرح ممکن تھا کہ ایک تو تورات پر مضبوطی سے قائم ہو اور دوسرا اس شریعت کو منسوخ کرکے ایک اور کتاب لے آئے۔پس یہ الفاظ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ موسوی شریعت ابھی جاری رہنے والی تھی۔اگر وہ مسیح ؑ کے ذریعہ منسوخ ہونے والی ہوتی تو اتنی شدت کے ساتھ نہ کہا جاتا کہ خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ۔اس