تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 174

دوسرے اس کو نہ سنیں۔اور مصباح میں ہے کہ بَعْضُ الْعَرَبِ یَقُوْلُ وَ حَیْتُ اِلَیْہِ وَ حَیْتُ لَہ وَ اَوْحَیْتُ اِلَیْہِ وَلَہ یعنی بعض اہل عرب کے نزدیک وَ حَیْتُ اِلَیْہِ اور وَحَیْتُ لَہُ بھی استعمال ہوتا ہے۔اور اَوْحَیْتُ اِلَیْہِ اور اَوْحَیْتُ لَہُ بھی استعمال ہوتا ہے۔معنے سب کے ایک ہی ہیں۔پس اَوْحٰی کے معنے صرف اشارہ کرنے کے نہیں بلکہ اس سے مراد کسی سے ایسے رنگ میں بات کرنا ہے کہ دوسرے لوگ نہ سنیں۔بُکْرۃ بُکْرَۃً صبح سے دوپہر تک کو کہتے ہیں(اقرب)اور عَشِیًّا دن کے آخری حصہ کو کہتے ہیں۔بعض زبان دان کہتے ہیں کہ مغرب سے عشاء تک کے وقت کے لئے عَشِیٌّ کا لفظ بولا جاتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔حضرت زکریا ؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب تین رات دن خاموش رہ کر ذکر الٰہی کرنے کی ہدایت ہوئی تو انہوں نے نیت کر لی کہ میں اب کوئی بات نہیں کروں گا اور خدا کے ذکر میں مشغول رہوں گا۔چنانچہ وہ اپنے کمرہ میں سے یا مسجد کے اس حصہ میں سے جہاں امام کھڑا ہوتا ہے باہر آئے اور انہوں نے ایسے رنگ میں بات کی کہ غیر لوگ اس کو نہ سنیں گویا نہایت آہستگی سے اپنے دوستوں کے پاس کھڑے ہو کر بات کی تاکہ غیر لوگ نہ سنیں۔ا س سے بھی معلوم ہوا کہ ان کے گونگے ہونے کا کوئی سوال نہیں تھا صرف ایسے رنگ میں بات کرنا مراد تھا کہ دوسروں کو سنائی نہ دے۔سورئہ آل عمران میں اَوْحٰی اِلَیْھِمْ کی بجائے رَمْزًا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمْزًا(آل عمران :۴۲) رَمْزًا کے معنے چونکہ عام طور پر اشارہ کے ہوتے ہیں اس لئے انجیل سے متاثر ہوکر ہمارے مفسرین نے بھی ا س کے معنے اشارہ کے کر لئے ہیں(تفسیر ابن کثیر زیر آیت فنادتہ الملائکة) حالانکہ لغت والے لکھتے ہیں کہ اس کے معنے ہونٹوں سے یا آنکھوں سے یا بھووں سے اشارہ کرنے کے ہیں(اقرب)۔اور ظاہر ہے کہ ہونٹوں سے انسان اشارہ نہیں کیا کرتا صرف آہستگی سے گفتگو کیا کرتا ہے پس ہونٹوں کے اشارہ کا مطلب بھی یہی ہے کہ صوت نہ نکلے جیسے کسی کا گلا خراب ہو تو کہا جاتا ہے کہ تم اس طرح بولو کہ تمہاری آواز نہ نکلے۔بلکہ ثعالبی جو لغت کے امام ہیں وہ تو اپنی کتاب فقہ اللغۃ میں لکھتے ہیں کہ ھُوَمُخْتصٌّ بِالشَّفَۃِ۔رمز کا لفظ ہونٹوں سے اشارہ کرنے کے لئے مخصوص ہے۔(فقہ اللغۃ فصل فی تفصیل تحریکات مختلفۃ) یعنی صرف ہونٹ سے بولنا گلا استعمال نہ کرنا اور یہ معنے اَوْحٰی اِلَیْھِمْ کے بالکل مطابق ہیں یعنی اونچا بولنا ان کو منع تھا۔ہونٹوں میں یعنی آہستہ کلام کر سکتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اجازت تھی۔چونکہ خدائی ارشاد پہنچانے کے لئے بعض قریبی لوگوں کو بتانا ضروری تھا۔اس لئے انہوں نے آہستگی سے کہہ دیا۔کہ میں خدائی حکم کے ماتحت تین دن