تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 176

کتاب پر مضبوطی کے ساتھ عمل کرو۔یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اس وقت تک بنی اسرائیل کے لئے تورات ہی واجب العمل تھی۔اگر وہ جلدی ہی منسوخ ہو جانے والی ہوتی تو ا س قدر تاکید نہ کی جاتی۔کہ تم پوری مضبوطی کے ساتھ اس پر عمل کرو۔یہ الفاظ دفع الوقتی کے لئے استعمال نہیں ہو سکتے۔بلکہ اسی صورت میں استعمال ہو سکتے ہیں جب اس شریعت نے ابھی کچھ عرصہ تک قائم رہنا ہو۔وَ اٰتَيْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا۔اور ہم نے اس کو بچپن کی عمرسے ہی حکم دیا تھا۔صَبِيًّاکے معنے بچپن کی عمر کے بھی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت مراد یہ ہے کہ وہ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا قرب عطا کر دیا۔یعنی ابھی لوگ ان کو بچہ ہی جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان پر کلام نازل ہونے لگ گیا۔ہماری زبان میں بھی محاورہ ہے کہ فلاں تو ابھی کل کا بچہ ہے۔مراد یہ ہوتی ہے کہ ابھی تو وہ چھوٹی عمر کا ہے۔یہ مطلب نہیںہوتا کہ وہ دودھ پیتا بچہ ہے لیکن اس کے علاوہ جوانی کے لئے بھی یہ لفظ بول لیتے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں دو نبی یعنی حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام آگے پیچھے آئے اور ان دونوں کے متعلق صَبِيًّا کا لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ جب ان کی والدہ نے یہودیوں سے کہا کہ اس سے بات کرو تو انہوں نے کہا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِیْ الْمَھْدِ صَبِیًّا(مریم :۳۰)ہم ایک بچہ سے کس طرح بات کر سکتے ہیں گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لوگوں نے صبی کہا اور یحییٰ علیہ السلام کو بھی خدا نے صبی قرار دیا۔اس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ معجزہ ہے کہ انہوں نے بچپن میں کلام کی تو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ اٰتَيْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا۔پھر وہاں تو دشمنوں نے آپ کو صبی قرار دیا تھا اور یہاں خدا نے حضرت یحییٰ کو صبی قرار دیا ہے۔اگر دشمن کے قول کی وجہ سے حضرت عیسیٰ ؑ کو عظمت دی جا سکتی ہے تو حضرت یحیٰ کے متعلق تم اسی عظمت کے کیوں قائل نہیں۔جب کہ یحیٰ کو دشمنوں نے نہیں بلکہ خدا نے صبی قرار دیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق يُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلًا (آل عمران :۴۷) کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں مگر آپ کے متعلق صبی کا لفظ دشمنوں نے ہی استعمال کیا ہے۔جس طرح اٰتَيْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا میں اس طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ اگر مسیح ؑکی عظمت کے تم اس وجہ سے قائل ہوکہ وہ بچپن میں ہی اپنے دشمنوں پر بھاری تھا تو وہی عظمت تم کو یحییٰ کو بھی کیوں نہیں دیتے جبکہ ہم نے اسے بھی بچپن میں ہی اپنا قرب عطاکردیا تھا اسی طرح یہاں بھی حضرت مسیح ؑ کی تعلیم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے عیسائیوں کا بڑا زور