تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 155

مثل کے بھی ہوتے ہیں۔مفسرین غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس جگہ سَمِیٌّ ہم اسم کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور مراد یہ ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام سے پہلے دنیا میں کسی کا نام یحییٰ نہیں رکھا گیا تھا(بحر محیط زیر آیت یا زکریا)۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔خود بائبل میں بعض ایسے لوگوں کا ذکر آتا ہے جن کا نام یوحنا تھا۔چنانچہ۲۔سلاطین باب ۲۵آیت ۲۳میں یہودیوں کے ایک سردار کا نام یوحناہ لکھا ہے۔اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک پڑپوتے کا نام یوحنا تھا۔دیکھو۱۔تواریخ باب ۳آیت ۱۵۔اسی طرح عزرا نبی کے ساتھ جو لوگ ایران سے یروشلم بنانے کے لئے آئے ان میں سے ایک شخص کا نام یوحنا تھا (عزرا باب ۸ آیت ۱۲) پس مفسرین کا یہ خیال کہ اس نام کا پہلے کوئی شخص نہیں گذرا یہ واقعات کے خلاف ہے۔عیسائیوں کو ایسی بات خدا دے۔انہوں نے سمیًا کے معنے مفسرین کے بیان کے مطابق یہ سمجھ لئے کہ اس کا ہم نام کوئی نہیں۔اور پھر بائبل سے یوحنا کے ہم نام بتانے لگے گئے۔اور پھر اس اعتراض کو مزید پختہ کرنے کے لئے یہ کہنا شروع کر دیا کہ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ کسی سے بائبل کی تھوڑی سی باتیں سنی ہوئی تھیں ان سے دھوکاکھا کر آپ نے یہ خیال کر لیا کہ یحییٰ نام کا پہلے کوئی شخص نہیں گزرا (تفسیر وہیری)۔چنانچہ اس کے لئے وہ یہ حوالہ بیان کرتے ہیں کہ انجیل میں لکھا ہے جب حضرت زکریا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو چونکہ وہ اس سے پہلے گونگے ہو چکے تھے اس لئے آٹھویں دن ان کے رشتہ دار لڑکے کا ختنہ کرنے آئے اور انہوں نے نے تجویز کیا کہ اس کا نام اس کے باپ کے نام پر زکریا رکھا جائے۔مگر اس کی ماں نے کہا نہیں اس کا نام یوحنا رکھا جائے۔اس پر انہوں نے اس سے کہا کہ۔’’ تیرے گھرانے میں کسو کا یہ نام نہیں۔‘‘(لوقا باب۱ آیت ۶۱) یعنی تیرے خاندان میں چونکہ پہلے یہ کسی کا نام نہیں۔اس لئے ہم یہ نام نہیں رکھتے۔اس کے بعد لکھا ہے کہ انہوں نے حضرت زکریا کو اشارہ کیا کہ تو اس کا کیانام رکھنا چاہتا ہے۔انہوں نے تختی منگوا کر اس پر لکھا کہ اس کا نام یوحنا ہے اور اسی وقت ان کی زبان کھل گئی۔اور وہ بولنے لگے گئے۔وہ کہتے ہیں کہ انجیل میں یہ جو فقرہ آتا ہے کہ ’’تیرے گھرانے میں کسو کا یہ نام نہیں۔‘‘ معلوم ہوتا ہے یہ فقرہ کسی نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو سنایا مگر انہیں پوری طرح یاد نہ رہا اور بجائے اس کے کہ وہ یہ سمجھتے کہ یوحنا نام زکریا کے خاندان میں سے کسی کا نہیں تھا۔انہوں نے قرآن میں یہ لکھوا دیا کہ اس سے پہلے