تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 156
یہ نام دنیا میں کسی شخص کا نہیں تھا۔حالانکہ قرآن کریم نے یہ دعویٰ ہی نہیں کیاکہ اس سے پہلے کسی کا نام یوحنا نہیں تھا۔قرآن کے الفاظ بالکل واضح ہیں۔مفسرین کی غلطی ان کے ساتھ ہے۔قرآن کریم تو یہ کہتا ہی نہیں کہ ان کا ہم نام کوئی نہیں تھا۔قرآن کریمہ کہتا کہ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا۔ہم نے اس سے پہلے کسی اور کو اس کا سمی نہیں بنایا۔اب بتائو کہ بچوںکا نام ان کے نام باپ رکھا کرتے ہیں یا خدا رکھا کرتا ہے؟ عیسائیوں میںدیکھ لو۔ہندوئوں میں دیکھ لو۔مسلمانوں میں دیکھ لو۔کون نام رکھا کرتا ہے۔ہر شخص جانتا ہے۔کہ ماں باپ بچوں کے نام رکھا کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا ہم نے اس سے پہلے کسی کا نام یوحنا نہیں رکھا۔اب فرض کرو یوحنا دنیا میں دس کروڑ بھی ثابت ہو جائیں۔تب بھی کیا حرج ہے۔کیونکہ سوال یہ نہیں کہ یوحنا نام پہلے تھا یا نہیں۔بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے پہلے کسی اور کا نام خود خدا تعالیٰ نے یوحنا رکھا تھا؟ بے شک دس کروڑ چھوڑ دس ارب یوحنا ثابت ہو جائیں ان کا نام خدا نے یوحنا نہیں رکھا تھا بلکہ ان کے ماں باپ نے رکھا تھا۔اور قرآن کہتا ہے کہ ہم نے یہ نام پہلے کسی کا نہیں رکھا۔اگر ایک نام دس کروڑ دفعہ بھی ماں باپ رکھیں تب بھی خدا اگر پہلی دفعہ کسی کا وہ نام رکھے گا تو وہ تو یہی کہے گا کہ میں نے یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہیں رکھا۔ہمارے ملک میں لاکھوں محمدہوں گے۔لاکھوں عبداللہ ہوں گے۔لاکھوں عبدالرحمٰن ہوں گے۔لاکھوں عبدالرحیم ہوں گے مگر ان کے نام ماں باپ نے رکھے ہیں۔اگر کل کسی کو الہام ہو کہ تو اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمٰن رکھ اور یہ وہ نام ہے جو ہم نے اس سے پہلے کسی کا نہیں رکھا اور پھر وہ اس کا نام عبدالرحمٰن رکھ دے تو کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے عبدالرحمٰن تو اس سے پہلے لاکھوں ہوں خدا نے ا سے پہلے اور کسی کا نام عبدالرحمٰن نہیں رکھا۔وہ نام ان کے ماں باپ نے رکھے ہیں۔اسی طرح اگر تو خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہوتا کہ یوحنا کا ہم نام کوئی نہیں ہو گا تب تو اعتراض ہو سکتا تھا۔لیکن قرآن تو یہ کہتا ہے کہ ہم نے اور کسی کو یہ نام نہیں دیا۔اور یہ ٹھیک بات ہے کہ جتنے نام بتائے جاتے ہیں وہ سب ایسے ہیں جو ماں باپ نے رکھے تھے اور یہاں اس کا نام ذکر ہے جو خدا تعالیٰ نے رکھا۔اس لئے اعتراض کی کوئی بات نہیں۔دوسرے عربی زبان میں سمیا کے معنے مثل کے بھی ہوتے ہیں پسلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیںکہ ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی مثل نہیں بنایا۔گویا اس میں ان کے بے مثل ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اب سوال ہو سکتا ہے کہ یحییٰ بے مثل کس طرح ہو گئے۔کیاموسیٰ ؑاس جیسا نہیں تھا؟ ہم کہتے ہیں بے مثل ہونا بھی اپنے اپنے دائرہ میں ہوتا ہے۔مثلاً ہم کہتے ہیں فلاں شخص گھوڑے کا بے مثل سوار ہے۔فلاں بے مثل کاتب ہے۔فلاں بے مثل انگریز ہے۔اب اس کے یہ معنے تو نہیں ہوتے کہ جو گھوڑے کی سواری میں