تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 134

باپ تھا لیکن ان کا یہ خیال غلط ہے۔تھوماس کے معنے عبرانی میں دودھ شریک بھائی کے ہوتے ہیں۔پس اس نام سے صرف اتنا نکلتا ہے کہ حضرت مسیح کو جس عورت کا دودھ پلایا گیا تھا اسی عورت نے تھوماس کو بھی دود ھ پلایا تھا۔یا یہ کہ خود حضرت مریم کا دودھ اس نے پیا تھا اور اس طرح وہ حضرت مسیح کا دودھ شریک بھائی ہو گیا تھا بہرحال حضرت مسیح نے اس چھوٹے سے فقرہ میں نہایت لطیف طریق پر ایک طرف تھوما کی توجہ دلائی کہ میں تو اس وقت صلیب پر لٹکا ہوا ہوں اور گو مجھے اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین ہے مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے اس کے وعدوں کے سمجھنے میں کوئی غلطی کی ہو۔اس لئے اب میں اپنی والدہ کو تیرے سپرد کرتا ہوں اور اپنی والدہ سے کہا کہ تھوما کو اپنا بیٹا سمجھنا۔ساری انجیل میں اپنی ماں سے محبت کا اظہار اگر حضرت مسیح نے کیاہے تو صرف اس جگہ۔ورنہ انجیل پڑھ کر کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں اپنی والدہ سے کچھ خار سی ہے۔کیونکہ کسی جگہ پر ان کی محبت کا اظہار نہیں۔بہرحال حضرت مسیح کی یہی کیفیت رہی۔کبھی انہیں ہوش آجاتا اور کبھی وہ بے ہوش ہو جاتے اس موقعہ پر پیلا طوس کی طرف سے جو پہریدار مقرر کئے گئے تھے وہ بھی دل میں ان کے مرید تھے۔انہوں نے جب دیکھا کہ حضرت مسیح ؑتکلیف برداشت نہیں کر سکتے تو وہ دوڑ کے گئے۔اور انہوں نے اسفنج کا ایک ٹکڑہ لے کر اسے شراب اور مر سے بھگویا اور حضرت مسیح کو چوسنے کے لئے دیا۔انجیل میں تو صرف اتنا لکھا ہے کہ اسفنج کو سرکہ میں ڈبو کر انہوں نے حضرت مسیح کو چوسنے کے لئے دیا ( مرقس باب ۵ ۱آیت ۳۶) مگر تاریخ سے ثابت ہے کہ آپ کو شراب اور مرکا مرکب دیا گیا (جیوش انسائیکلو پیڈیا جلد ۴زیر لفظ Cross) عیسائی لوگ بعض دفعہ اس بات پر بڑا زور دیا کرتے ہیں کہ یہود نے آپ پر اتنا ظلم کیا کہ جب آپ شدت تکلیف سے کراہ رہے تھے تو انہوں نے شراب اور مُر کے مرکب میں اسفنج بھگویا اور چوسنے کے لئے آپ کو دیا۔حالانکہ رومی کتب کے حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ جس شخص کے ساتھ وہ رعایت کرنا چاہتے تھے اور جس کو وہ تکلیف سے بچانا چاہتے تھے اس کو وہ شراب اور مر کا مرکب دیا کرتے تھے(جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Crucifixtion)۔معلوم نہیں طبی طور پر یہ چیز فائدہ بخش بھی ہے یا نہیں لیکن اس زمانہ میں لوگ یہی سمجھتے تھے کہ جس کو شراب اور مر دی جائے اس کی تکلیف کم ہو جاتی ہے۔پس یہ واقعہ بھی بتا رہا ہے کہ وہ لوگ جو آپ کے پہرہ کے لئے مقرر کئے گئے تھے وہ بھی دل میں آپ کے مرید تھے اور چاہتے تھے کہ آپ کی تکلیف کو کم کرنے میں وہ جس قدر بھی حصہ لے سکتے ہوں لیں۔پھر جیسا کہ میں بتاچکا ہوں انہیں جمعہ کے دن پچھلے پہر صلیب پر لٹکایا گیا تھا اور مغرب سے سبت کا دن شروع ہو جاتا تھا آج کل تو رات کے بارہ بجے کے بعد سے اگلا دن شمار کیا جاتا ہے لیکن اسلامی طریق یہ ہے کہ سورج کے غروب ہونے کے ساتھ ہی یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اگلا دن شروع ہو گیا ہے اور یہی