تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 135
طریق بنی اسرائیل میں بھی رائج تھا۔اس لحاظ سے سورج کے غروب ہوتے ہی سبت کا دن شروع ہو جاتا تھا اور یہودیوں میں یہ بات مشہور تھی کہ اگر کوئی سبت کے دن صلیب پر لٹکا رہے تو اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے(یوحنا باب ۱۹ ٓیت ۳۱) چنانچہ دو تین گھنٹہ کے بعد ہی پیلا طوس نے انہیں توجہ دلائی کہ اگر یہ صلیب پر لٹکا رہا اور سبت کا دن شروع ہو گیا تو تم پر عذاب آ جائے گا۔ادھر اللہ تعالیٰ نے یکدم ایک زور دار آندھی چلا دی جس سے چاروں طر ف تاریکی چھا گئی ( مرقس باب ۱۵ آیت ۳۳) اس کو دیکھ کر یہودی اور بھی ڈرے کہ ایسا نہ ہو یہ صلیب پر رہے اور سبت شروع ہو جائے۔چنانچہ انہوں نے پیلاطوس سے خود درخواست کی کہ اب ان کو اتار لیا جائے ( یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۱) ایسا نہ ہو کہ ہم پر عذاب نازل ہو جائے۔اب فرض کرو انہیں سورج غروب ہونے سے آدھ گھنٹہ یا پون گھنٹہ پہلے اتار لیا گیا تھا۔تب بھی ان کی صلیب کا وقت کچھ نہ کچھ تو ضرور کم ہو جائے گا اگر سات بجے سورج غروب ہوا کرتا تھا اور ساڑھے تین بجے انہیں صلیب پر لٹکایا گیا تھا تو یہ کل وقت ساڑھے تین گھنٹے بنتا ہے لیکن چونکہ شدید آندھی کی وجہ سے سخت تاریکی چھا گئی تھی اور سبت شروع ہو جانے کے خوف سے انہیں جلدی اتار لیا گیا تھا۔اس لئے اگر آدھ یا پون گھنٹہ بھی یہ وقت فرض کر لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اڑھائی سے تین گھنٹہ تک حضرت مسیح کو صلیب پر رہنا پڑا۔حالانکہ اس صلیب پر سات سات دن تک بھی بعض لوگ زندہ رہتے تھے اور وہ صرف بھوک اور پیاس کی وجہ سے یا زخموں کا زہر جسم میں پھیل جانے کی وجہ سے ہلاک ہوتے تھے۔پھر یہ بھی قاعدہ تھا کہ جو لوگ صلیب پر سے زندہ اتر آتے تھے ان کی ہڈیاں توڑ دی جاتی تھیں۔مگر پہرے دار چونکہ حضرت مسیح کے مرید تھے انہوں نے چوروں کی تو ہڈیاں توڑ یں مگر حضرت مسیح کی ہڈیاں نہیں توڑیں دراصل صلیب دینے کے اصل معنے بھی ہڈیاں توڑ کر گودا نکال دینے کے ہیں اور یہ نام اسی لئے رکھا گیا تھا کہ اکثر لوگ صلیب پر مرتے نہیں تھے بلکہ بعد میں ہڈیاں توڑ کر ان کا گودا نکالا جاتا تھا لیکن حضرت مسیح ؑ کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں۔( یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۳) پھر حضرت مسیح کے صلیب پر سے زندہ اتر آنے کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ انجیل میں لکھا ہے۔جب حضرت مسیح کو اتارا گیا تو ایک سپاہی دوڑتا ہوا گیا اور اس نے آپ کی پسلی میں آہستہ سے نیزہ مار کر دیکھا تو اس میں سے خون اور پانی بہ نکلا ( یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۴) جسم میں سے خون اور پانی نکلنا یہ تو کوئی محاورہ نہیں۔اس کے معنے یہی ہیں کہ سیال خون نکل آیا۔ورنہ انجیل کا بیان ہی اگر درست ہو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ پانی الگ چیز ہے اور خون الگ۔اور خون کو سیال بنانے والی سرم کے علاوہ کوئی اور بھی چیز ہے حالانکہ کوئی اور چیز ہے ہی نہیں۔پس اس کے معنے پانی اور خون کے نہیں بلکہ بہتے ہوئے خون کے ہیں۔مگر یہودیوں میں انہوں نے یہ مشہور کر دیا کہ وہ مر گیا ہے اور اسی لئے ہم نے اس کی ہڈیاں نہیں توڑیں۔