تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 133

دوسرے سے مذاق کرتے رہے۔بلکہ ان میں سے ایک نے مسیح کو طعنہ دے کر کہا کہ اگر تو مسیح ہے تو اپنے آپ کو بھی اور ہم کو بھی بچا۔اس پر دوسرے نے اسے جھڑک کر کہا کہ تو خدا سے ڈر ہم تو اپنے کئے کی سزا پا رہے ہیں اور یہ بےگناہ ہے۔(لوقاباب ۲۳ آیت ۳۹۔۴۰) اب دیکھو وہ صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں مگر مذاق جاری ہے کیونکہ وہ سنگدل لوگ تھے اور ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے۔اسی قسم کی طبیعت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اپنے اندر سختی برداشت کرنے کا مادہ رکھتے ہیں۔کشمیر میں ہی ہمارا ایک احمدی خاندان ہے جو پہلے زمانہ میں مظفر آباد کے راجہ تھے مہاراجہ کشمیر نے حملہ کر کے انہیں شکست دی اور راجہ کو قید کر کے سری نگر لے آیا اور ان کے گزارہ کے لئے وظیفہ مقرر کر دیا۔یہ مہاراجہ رنبیر سنگھ کے عہد حکومت کی بات ہے جس کے زمانہ میں حضرت خلیفہ اول رضی ا للہ عنہ ریاست جموں و کشمیر میں ملازم تھے۔وہ مسلمان راجہ بڑا خوبصورت اور قوی نوجوان تھا اور اس کی شکل مہاراجہ کو بڑی پسند تھی۔ایک دن وہ پولو کھیلتے ہوئے گرا اور کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی۔انہوں نے علاج کرایا اور ہڈی جڑ گئی۔مگر ہڈی کچھ ٹیڑھی جڑی۔ایک دن دربار لگا ہوا تھا کہ مہاراجہ نے کہا کیوں راجہ صاحب آپ فلاں دن پولو کھیلتے ہوئے گرے تھے اور آپ کو چوٹ آئی تھی۔بتائیے اب ہڈی کا کیا حال ہے جڑ گئی ہے یا نہیں ؟ انہوں نے کہا جڑ گئی ہے اس نے کہا آئیے مجھے دکھائیں۔انہوں نے دکھائی تو کہنے لگاراجہ صاحب یہ آپ نے کیا کیا۔یہ ہڈی تو ٹیڑھی جڑی ہے اور اس سے آپ کی خوبصورتی پر دھبہ آ گیا ہے۔آپ اتنے خوبصورت انسان تھے آپ مجھے بتاتے تو میں اپنا ڈاکٹر آپ کے لئے مقرر کر دیتا اور اس ہڈی کو بالکل صحیح جڑوا دیتا۔وہ اس وقت کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے بڑے اطمینان سے اپنے بازو پر دبائو ڈال کر اتنے زور سے اسے جھٹکا دیا کہ بازو دو ٹکڑے ہو گیا اور کہنے لگے ’’ مہاراج اب جڑوا دیں‘‘ یہ دیکھ کر مہاراجہ کی ایسی حالت ہو گئی کہ وہ بے ہوش ہو نے لگا۔اور دربار سے اٹھ کر چلا گیا۔تو ایسے ایسے سنگدل لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں ان باتوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی مگر حضرت مسیح ایک نازک مزاج انسان تھے۔اردگرد کے چور تو مذاق کرتے رہے اور مسیح بے ہوش ہو گئے جب انہیں ہوش آیا تو کراہنا شروع کر دیا۔مگر معلوم ہوتا ہے آپ کے حواس قائم تھے کیونکہ انجیل بتاتی ہے کہ اوپر سے آپ کی والد ہ آ گئیں۔آپ نے اپنی والدہ کو دیکھا اور آپ پر ایک عجیب قسم کی کیفیت طاری ہو گئی۔آپ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ نہ معلوم میری والدہ کو اس وقت کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی سامنے ہی آپ کا ایک شاگرد تھو ما نا می کھڑا تھا۔آپ نے تھوما کی طرف دیکھا اور کہا۔اے تھوما یہ تیری ماں ہے اور اپنی والدہ سے کہا اے عورت یہ تیرا بیٹا ہے(یوحنا باب ۱۹ آیت ۲۵ تا ۲۷)۔بعض لوگ تھوماس سے یہ غلطی کھاتے ہیں کہ تھوماس کے معنے ہوتے ہیں توأم بھائی۔جس سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح ؑ کا