تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 97

یعنی جب مسیح ؑ کو صلیب پر لٹکایا گیا اور ان کے ہاتھوں اور پائوں میں کیل گاڑے گئے تو مسیح ؑ نے نہایت ہی دردناک طور پر خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ ایلی ایلی اے میرے خدا اے میرے خدا لما سبقتنی تو کس وجہ سے مجھ کو چھوڑ کر چلا گیا ہے۔آخر میںنے کیا گناہ کیاہے کہ تو نے مجھے چھوڑ دیا اور مجھ سے اپنے رحم و کرم کی نظر ہٹا لی۔اس دعا سے بھی صاف پتہ لگتا ہے کہ مسیح اپنے مرضی سے صلیب پر نہیں لٹکا بلکہ آخری حالت میںبھی وہ یہی سمجھتا تھاکہ خدا نے مجھے چھوڑ دیا ہے اور اس نے مجھے اس مصیبت میںڈال دیا ہے گویا مسیح اس بات پر خوش نہیں تھا کہ اس کو صلیب پر لٹکایا جائے اور جب وہ اس بات پر خوش نہ تھا نہ صلیب سے پہلے اور نہ بعد۔اور وہ یہ قربانی دینے کے لئے تیار نہیں تھا تو اس کا صلیب پر لٹکنا کفارہ کا موجب نہیں ہو سکتا۔پھر اس کے ساتھ ہی ایک اور سوال بھی حل کرنا ضروری ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ کیا مسیح ؑ آدم کے گناہ سے خود پاک تھا کہ قابل کفارہ ہو؟ کفارہ کی تھیوری یہ ہے کہ انسان پاک نہیںہو سکتا کیونکہ آدم نے گناہ کیا تھا اور وہ آدم کی نسل میں سے ہے اور چونکہ نسل اپنے باپ کی وارث ہوتی ہے۔اس لئے جو آدم کی اولاد ہے وہ بہرحال اپنے باپ کے گناہ کی وارث ہے اور چونکہ وہ گناہ کی وارث ہے اس لئے اولاد آدم گناہ سے بچ نہیں سکتی۔اور چونکہ وہ گناہ سے بچ نہیں سکتی اور نجات نہیں پا سکتی اور نہ کوئی گنہگار انسان دوسرے گنہگار کے لئے کفارہ ہو سکتا ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ کوئی ایسا وجود ہوتا جو گنہگار نہ ہوتا اور اپنی مرضی سے لوگوں کے گناہ اٹھا لیتا اور ان کی سزا خود برداشت کر لیتا تاکہ دوسرے لوگ گناہ کی سزا سے بچ جائیں۔اور یہ وجود مسیح ناصری تھا جو خدا کابیٹا تھا اس نے تمام لوگوں کے گناہ اٹھا لئے اور صلیب پر لٹک کر ان کے لئے کفارہ بن گیا۔یہ ہے کفارہ کی تھیوری اب اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مسیح گناہ سے پاک نہیں تھا تو یہ ساری تھیوری ختم ہو جاتی ہے جب وہ گناہ سے پاک ہی نہیں تھا تو کفارہ بھی نہیں ہو سکتا تھا انبیاء کے متعلق عیسائی یہی کہتے ہیں کہ چونکہ وہ گنہگار تھے اس لئے کفارہ نہیں ہو سکتے تھے ابراہیم کفارہ نہیں ہو سکتا تھا موسیٰ کفارہ نہیں ہو سکتا تھا۔د ائود کفارہ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ وہ خود گنہگار تھے اور گنہگار دوسرے گنہگار کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔لیکن بائبل سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسیح خود بھی پاک نہیں تھا اور جب وہ پاک نہیں تھا تود وسرے گنہگاروں کا وہ بھی بوجھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔انسان کو گنہگار ثابت کرنے کی دلیل مسیحیت یہ دیتی ہے کہ وہ گناہ کرنے والے آدم کی نسل میں سے ہے اور چونکہ وہ آدم کی نسل میں سے ہے۔اس لئے گنہگار ہے ہم کہتے ہیں مسیحؑ بھی حوا کے ذریعہ آدم کی اولاد میں سے تھا اور اس لئے وہ بھی گنہگار تھا۔مسیحی کہتے ہیں کہ انسان نے گناہ آدم سے ورثہ میں لیا ہے۔جب مسیح ؑ کا کوئی باپ ہی نہیں