تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 96
نزدیک اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تم غم کیوں کرتے ہو اور شدت غم میں تم کیوں سو رہے ہو۔گویا غم میں انسان سویا کرتا ہے اور جب غم نہ ہو تو اٹھ کر دعا کیا کرتا ہے۔صاف پتہ لگتا ہے کہ چونکہ لوقا کو یہ خیال آ گیا کہ پڑھنے والے کیا خیال کریں گے کہ یہ عجیب شاگرد تھے جو اتنی بڑی مصیبت میں بھی سوئے رہے اس لئے اس نے یہ الفاظ لکھ دئے کہ وہ حواری شدت غم میں سو رہے تھے مسیح نے ان سے کہا) اٹھ کر کہ دعا کرو تا کہ آزمائش میں نہ پڑو۔‘‘ (لوقا باب ۲۲ آیت ۳۹ تا ۴۶) اس حوالہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ؑ صلیب پر لٹکنا نہیں چاہتا تھا اور کفارہ کی ساری بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ مسیح اپنی مرضی سے لوگوں کے گناہوں کے بدلہ میں صلیب پر لٹکا۔جب وہ اپنی مرضی سے صلیب پر ہی نہیں لٹکا تو کفارہ کس طرح ہوا۔؟ بعض دفعہ عیسائی یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس میں جبر کا کوئی سوال ہی نہیں مسیح نے خود ہی کہہ دیا تھا کہ’’ تو بھی میری مرضی نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پوری ہو‘‘ ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے ایک نبی سے یہ کب امید ہو سکتی ہے کہ خدا چاہے اور وہ نہ چاہے مسیح نے بھی جب دیکھا کہ خدا کی مرضی اسی میں ہے کہ میں صلیب پر لٹک جائوں تو اس نے خدا تعالیٰ سے کہا کہ اے خدا تیری مرضی پوری ہو لیکن اس سے اتنا تو ثابت ہو گیا کہ وہ اپنی مرضی سے کفارہ نہیں ہوا۔اور کفارہ خدا تعالیٰ کی مرضی سے نہیں ہوتا۔بلکہ اگر کفارہ ہو سکتا ہے تو کفارہ دینے والے کی مرضی سے ہوتا ہے مسیح صاف طور پر کہتا ہے کہ میری مرضی نہیں کہ میں کفارہ پیش کروں یہ اور بات ہے کہ جبر کے بعد وہ تیار ہو گیا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے بعض دفعہ ڈاکو جنگل میں کسی مسافر کو پکڑ لیتے ہیں تو وہ ہنس ہنس کر انہیں روپیہ دینا شروع کر دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر میں بولا تو یہ مجھے قتل کر دیں گے لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ اپنی مرضی سے انہیںروپیہ دے رہا ہوتا ہے اسی طرح یہ سوال نہیں کہ خدا نے اسے جبراً ایک بات پر تیار کر لیا۔سوال یہ ہے کہ آیا یہ بات مسیح کی اپنی مرضی سے ہوئی؟اگر اس کی اپنی مرضی سے ہوئی ہے تب تووہ کفارہ ہوا ورنہ نہیں اور اوپر کے حوالہ جات بتا رہے ہیں کہ مسیح ؑنے صاف طور پر یہ کہا کہ میری مرضی نہیں کہ صلیب پر لٹکوں۔پس جو کچھ ہوا جبر سے ہوا اور یہ چیز ایسی ہے جو کفارہ کو باطل ثابت کر دیتی ہے۔بعض عیسائی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ مسیح کی عارضی حالت تھی بعد میں اس کی یہ کیفیت بدل گئی تھی۔اس امر کا جائزہ لینے کے لئے ہم یہ دیکھتے ہیںکہ صلیب کے وقت مسیح ؑکی کیا حالت تھی۔ساری انجیل میں عبرانی کا ایک ہی فقرہ محفوظ ہے جو مسیح نے صلیب کے وقت بولا اور وہ فقرہ یہ ہے کہ ’’ ایلی ایلی لما سبقتنی ‘‘ (متی باب ۲۷ آیت ۴۶)