تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 98
تھا تو آدم کا گناہ اس کے ورثہ میں نہیں آیا۔ہم کہتے ہیں کہ ورثہ باپ اور ماں دونوں سے مل سکتا ہے۔مثلاً اگر ماں کے اندر آتشک ہو تو بچے کے اندر بھی آتشک کا مادہ آ سکتا ہے یا اگر ماں کو سل ہو تو بچے کے اندر بھی سل کا مادہ آ سکتا ہے۔کئی مائیں مسلول ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی اولاد میں بھی سل کا مادہ آ جاتا ہے۔اسی طرح مائوں کو مرگی یا جنون کا مرض ہوتا ہے تو اولاد میں بھی مرگی اور جنوں کا مرض آ جاتا ہے۔غرض دنیا کے حالات پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اخلاقی ، جسمانی یا روحانی عیوب جو ماں یا باپ میں ہوتے ہیں وہ ورثہ کے طور پر ان کی اولاد میں بھی منتقل ہو جاتے ہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ صرف باپ سے ورثہ کے طور پر کوئی بات آ جائے اور ماں کی طرف سے نہ آئے بلکہ باپ اور ماں دونوں کا ورثہ ملتا ہے۔اس نقطہ نگاہ سے جب مسیح ؑ حوا کی اولاد میں سے تھا تو خواہ اس کا باپ کوئی نہ ہو تب بھی اس نے اپنی ماں سے ورثہ کا گناہ پا لیا تھا اور وہ دوسرے انسانوں کی طرح گنہگار تھا۔مسیح اسی صورت میں گناہ کے ورثہ سے بچ سکتا ہے جب یہ ثابت کیا جائے کہ وہ آدم اور حوا دونوں کی اولاد میں سے نہیں تھا۔جب اس کا نہ باپ ہو نہ ماں۔تب بے شک ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ورثہ کا گناہ نہیں پایا۔اور یا پھر یہ ثابت ہو جائے کہ حوا نے گناہ نہیں کیا۔تب حضرت مسیح ؑورثہ کے گناہ سے بچ سکتے ہیں کیونکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسیح ؑ حوا کی اولاد میں سے ہے جس نے گناہ نہیں کیا تھا آدم کی اولاد میں سے نہیں جس نے گناہ کیا تھا۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس صورت میں بھی مسیح گناہ سے نہیں بچ سکتا۔کیونکہ اگر فرض کر لیا جائے کہ حوا نے گناہ نہیں کیا تھا۔گناہ صرف آدم نے کیا تھا تب بھی اگر مسیح کو حوا نے جنا ہوتا تب تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اس میں گناہ کا مادہ نہیں آیا۔لیکن مسیح تو اس عورت کا بیٹا ہے جو حوا سے ہزاروں سال بعد ہوئی اور جو کئی ہزار واسطے حوا تک رکھتی تھی اس دوران میں ہزاروں دفعہ آدم کی اولاد نے حوا کی بیٹیوں کو چھؤا پھر اور حوا کی بیٹیاں ہوئیں تو ان کو پھر آدم کی اولاد نے چھؤا۔اس طرح کئی ہزار چکر کھانے کے بعد حضرت مریم پیدا ہوئیں۔وہ اتنے ہزار چکر میں آدم کے گناہ کے اثر سے بچ کس طرح سکتی تھیں اگر تو وہ براہ راست حوا کی اولاد میں سے ہوتیں اور حوا بے گناہ ہوتیں تب بے شک یہ کہا جا سکتا تھا کہ چونکہ حوا بے گناہ ہے اور چونکہ مریم براہ راست بغیر کسی واسطہ کے حوا کی بیٹی ہے۔اس لئے گناہ کا مادہ اس میں نہیں آیا مگر وہ براہ راست حوا کی اولاد میں سے نہیں بلکہ حوا کی ان بیٹیوں کی اولاد میں سے ہے جو ہزاروں دفعہ گناہوں سے ملوث ہو چکی ہیں۔پس وہ عورت جو آدم کے گناہ کا حصہ لے چکی تھی کس طرح مسیح کے پاک ہونے کا موجب ہو سکتی تھی۔پھر یہ بھی درست نہیں کہ حوا بے گناہ تھی۔بلکہ بائبل سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حوا آدم سے بھی زیادہ گنہگار تھی۔بائبل میں لکھا ہے :۔