تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 95
ٹل جائے اور صلیب پر اسے نہ لٹکنا پڑے پس جو کچھ ہوا زبردستی ہوا۔اس بارہ میںدوسری گواہی لوقا کی ہے اس میں لکھا ہے۔’’ پھر وہ نکل کر اپنے دستور کے موافق زیتون کے پہاڑ کو گیا اور شاگرد اس کے پیچھے ہو لئے اور اس جگہ پہنچ کر اس نے ان سے کہا دعا کرو کہ آزمائش میں نہ پڑو اور وہ ان سے بمشکل الگ ہو کر کوئی پتھر کا ٹپہ آگے بڑھا اور گھٹنے ٹیک کر یوں دعا کرنے لگا کہ اے باپ اگر تو چاہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے تو بھی میری مرضی نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پوری ہو (گویا یہ انجیل بھی مانتی ہے کہ مسیح نے یہ کہا کہ میری مرضی تو اس میں نہیں لیکن اگر تیری مرضی مجھے صلیب پر لٹکانے کی ہی ہے تو میں اسے قبول کرتا ہوں۔دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لو کہ میں تو قرضہ دینا نہیں چاہتا لیکن اگر تو چھیننا چاہتا ہے تو چھین لے) اور آسمان سے ایک فرشتہ اس کو دکھائی دیا وہ اسے تقویت دیتا تھا (یعنی خدا کو فرشتہ تقویت دیتا تھا یہ ایسی ہی بات ہے جیسے گھوڑے کو کوئی چوہابلکہ اس سے بھی کوئی چھوٹی چیز سہارا دے) پھر وہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو کر اور بھی دلسوزی سے دعا کرنے لگا (گویا فرشتے کی تقویت بھی کام نہ آئی اور وہ اس دعا میں مشغول ہو گیا کہ کسی طرح یہ صلیب کی مصیبت مجھ سے ٹل جائے) اور اس کا پسینہ گویا خون کی بڑی بڑی بوندیں ہو کر زمین پر ٹپکتا تھا (حالانکہ وہ دن سخت سردی کے تھے۔د سمبر کا مہینہ تھا شمالی علاقہ میںمسیح رہتے تھے اور پھر اس وقت پہاڑی پر چڑھے ہوئے تھے مگر اس پریشانی کا ان پر اتنا اثر تھا کہ ایسی سخت سردی میں بھی دعا کرتے وقت ان کا پسینہ ٹپ ٹپ بہنے لگا اس دعا کے بعد وہ اپنے شاگردوں کے پاس آئے چونکہ انسان کے لئے اپنا عیب بیان کرنا مشکل ہوتا ہے اور خیال ہوتا ہے کہ کہیں دشمن کوئی طعنہ نہ دے دے اس لئے یہاں لوقا نے ایک عجیب بات لکھ دی ہے مرقس نے تو صاف طور پر بیان کر دیا تھا کہ اس شدت گھبراہٹ میں مسیح بار بار اپنے شاگردوں کے پاس آتے اور کہتے کہ اٹھو اور دعا کرو مگر وہ اٹھنے کا نام نہیں لیتے تھے لیکن لوقا کو خیال آیا کہ یہ تو بڑی بدنامی کی بات ہے لوگ کیا کہیں گے کہ مسیح کے اچھے شاگرد تھے اتنی بڑی مصیبت میں بھی وہ نہ جاگ سکے اور باوجود اس کے مسیح ؑبار بار کہتے تھے کہ اٹھو اور دعا کرو وہ اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ا س بدنامی کے دھبہ کو دور کرنے کے لئے لوقا لکھتا ہے) جب دعا سے اٹھ کر شاگردوں کے پاس آیا تو انہیں غم کے مارے سوتے پایا۔(گویا شدت غم میں وہ بالکل سو رہے تھے)اور ان سے کہا تم سوتے کیوں ہو (لوقا کے