تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 95
اس کے ہاتھ سے جاتی رہی۔اَعْـجَزَ فُلَانٌ فُلَانًا :صَیَّرَہٗ عَاجِزًا فلاں نے فلاں کو عاجز کر دیا۔اَعْـجَزَہُ : وَجَدَہُ عَاجِزًا۔اس کو عاجز پایا (اقرب)پس فَمَاھُمْ بِمُعْجِزِیْنَ کے معنی ہوں گے وہ اس کو عاجز نہیں پائیں گے وہ اس کوعاجز نہیں کرسکیں گے۔تفسیر۔تَقَلُّب کے معنی تَقَلُّب کے معنے سفر کے بھی ہوتے ہیں جیسے کہ فرمایا ہے لَایَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْافِی الْبِلَادِ (آل عمران :۱۹۷)یعنی کفار کاادھر ادھر اموال تجارت لے کر پھر نا تجھے دھوکہ میں نہ ڈالے اورتجھے یہ خیال نہ ہو کہ ان کے پاس تو بڑاسرمایہ ہے۔بڑی طاقت ہے یہ کس طرح مغلوب ہوں گے۔ان معنوں کے روسے آیت زیر بحث کے معنے یہ ہوں گے کہ کفار مطمئن نہ ہوں کہ ان کے سفر ان کی طاقت کا موجب ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ان سفروں میں ہی عذاب میں مبتلاکرے گا۔چنانچہ غزوہ بدر ایک قافلہ کی حفاظت ہی کی غرض سے ہوااوراس میں کفار مکہ کی شوکت جاتی رہی۔دوسرے معنے تقلّب کے تصرف کے ہیں۔ان معنوں کے روسے آیت کے معنے ہوں گے کہ ان کے تصرف میں خلل آجائے گااورحکومت ضعیف ہوجائے گی چنانچہ یہ عذاب بھی مکہ والوں پر صلح حدیبیہ کے موقعہ پر نازل ہوااوربعض کافر قبائل نے مکہ والوں کے جتھا میں شامل ہونے سے انکار کردیا اورفیصلہ کیا کہ باوجود مذہبی اختلا ف کے وہ مسلمانوں کے ساتھ ہوں گے اوریہی قبیلہ مکہ پر حملہ کروانے کاموجب بنا (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام غزوة بدر القبری)۔اَوْ يَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ یاوہ انہیں آہستہ آہستہ گھٹاکر ہلاک کردے۔کیونکہ تمہارارب یقیناً(مومنوںپر )بہت(ہی ) لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۰۰۴۸ شفقت کرنے والا (اور)باربار رحم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔تَخوُّفٍ:تَخَوَّفَ عَلَیْہِ شَیْئًاتَخَوُّفًا:خَافَہُ عَلَیْہ۔اس پر کسی مصیبت کے آنے کا خوف محسوس کیا۔وَتَخَوَّفَ الشَّیْءَ :تَنَقَّصَہٗ۔کسی چیز کو تھوڑاتھوڑاکرکے لیا۔تَخوَّف حَقَّہُ:تَھَضَّمَہٗ اِیّاہٗ۔اس کے حق کو مار لیا۔ھُوَیَأخُذَھُمْ عَلی تَخَوُّفٍ۔اَیْ یُصَابُونَ فِیْ اَطْرَافِ قُرَاھِمْ بِالشَّرِّ حَتَّی یَأْتِیَ ذَالِکَ عَلَیْہِمْ۔ھُويَاْخُذُهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍکے معنے ہیں کہ ان کی ارد گرد کی بستیو ںپر تکالیف آرہی ہیں۔یہاںتک کہ اب ان کی