تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 96
نوبت بھی آرہی ہے۔(اقرب)وَالتَّخَوُّفُ: ظُہُوْرُالْخَوْفِ مِنَ الْاِنْسَانِ۔انسان سے کسی خوف اورڈر کے ظاہر ہونے کانام تخوّف ہے (مفردات) تفسیر۔يَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ کے دو معنی یعنی ایک اوررنگ کاعذاب بھی مکہ والوں کو ملے گااوروہ یہ کہ مکہ والوں کے تابع جو علاقے ہیں وہ آہستہ آہستہ انہیں چھوڑتے جائیں گے۔چنانچہ مختلف علاقو ں کے لوگوں نے مکہ فتح ہونے سے پہلے ہی اسلام لاناشروع کردیاتھا۔اس آیت کے یہ معنے بھی ہیں کہ ایک عذاب تم پر خوف کاآئے گایعنی باوجود زیادہ ہونے کے تمہارے دلوں پر مسلمانوں کا ایسارعب بٹھادیاجائے گاکہ تم اند ر ہی اند رخوف سے مرتے جائو گے۔اس قسم کا عذاب نہایت شدیدہوتا ہے کیونکہ ا س کااثر اعصاب پر پڑ کر انسان کی حالت سخت پریشانی کی ہوجاتی ہے۔یہ عذاب بھی مکہ والوں پر نازل ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہؓ کارعب ان پر ایساتھا کہ ہر وقت وہ اسی غم میں گھُلے جاتے تھے۔حدیث میں آتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ (بخاری کتاب الصلٰوۃ باب قول النبی ؐ جعلت لی الارض مسجدا) اللہ تعالیٰ نے میری مدد رعب کے قیام سے بھی کی ہے جدھر میں نکلو ں مہینہ بھر کی مسافت کے علاقہ تک لوگوں میں دہشت پھیل جاتی ہے۔سزا کے بعد صفت رؤوف کے ذکر کی وجہ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔یہ عجیب بات ہے کہ سزاکے ذکر کے بعد رءو ف ہونے کا ذکر کیاہے۔اس کی وجہ اول تویہ ہے کہ یہ سارے عذاب تدریجی آئے ہیں۔پہلے تخوف سے ان کو سمجھا یا یعنی ادھر ادھر بستیوں میں اسلام پھیلایا۔پھر چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہوئیں۔پھر صلح حدیبیہ ہوئی جس سے ان کا رعب اڑ گیا۔پھر اچانک فتح مکہ کے وقت ان کو شہر میں جاپکڑا۔پس یہ رأفت اوررحم ہی تھا کہ آہستہ آہستہ پکڑاتاکہ جو ہدایت کے قابل تھے ہدایت پا جائیں۔ورنہ چاہتا تویکد م عذاب میں مبتلاکردیتا۔عذاب کفار کے لئے ہے اور رأفت مومنوں کے لیے دوسری وجہ اس کی یہ ہوسکتی ہے اور میرے نزدیک یہی زیادہ درست ہے کہ رءو فٌ رَّحِیْمٌ مسلمانوں کے لئے آیا ہے اورمطلب یہ ہے کہ ان لوگوں پر عذاب لانا مسلمانوں پر رأفت اوررحم کی غرض سے ہوگا تاانہیں ان عذابوں اورظلموں سے بچایا جائے جو مکہ والوں کی طرف سے ان پر وار دہوتے رہتے ہیں۔اس کاثبوت یہ ہے کہ جہاں عذابوں کا ذکر تھا وہاں غائب کی ضمیریں استعمال کی گئی تھیں اوررء وف رحیم سے پہلے یہ نہیں فرمایا کہ اِنَّ رَبَّھُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔بلکہ فرمایا ہے اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔پس غائب سے خطاب کی ضمیرکو بد ل دینابتاتا ہے کہ عذاب کفار کے لئے ہوگا اوررأفت اوررحمت مومنوں کے لئے