تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 94
دفن ہوجانے کے ہوںگے اوراستعمال مجازی سمجھا جائے گا۔کفار پر موعود عذاب کا ظہور اور صحابہ کی عزت یہ عذاب کفار پر اس شان کے ساتھ آیا کہ آج صنادید عرب کے ناموں اوران کے خاندانوںکو کوئی جانتا بھی نہیں۔لیکن ابو بکرؓ، عمر ؓ، عثمانؓ، علی ؓاوران کی نسلوںکو آج بھی لوگ سر پربٹھاتے ہیں۔پیشگوئی کے مطابق فتح مکہ کے وقت کفار پر اچانک عذاب کا نزول اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ گو ہرعذاب ہی اسی طر ح آتا ہے کہ کفار جانتے نہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعض واقعات اس آیت پر حیرت انگیز طور پر چسپاں ہوتے ہیں۔مثلاً صلح حدیبیہ کاواقعہ ہی لے لو اس صلح کے وقت مکہ والوں کاخیال تھا کہ انہوں نے ایک بہت بڑی فتح حاصل کی ہے لیکن اس کے بعد جس طرح حالات نے یکدم پلٹاکھایا وہ ایک زبردست نشان ہے۔پہلے مکہ والوں نے اس شرط کے پوراکرنے پر اصرارکرکے کہ جو ہم میں سے اسلام لاکر مدینہ جائے اسے واپس کردیاجائے مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت پیداکردی جورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام سے آزاد ہوکر مکہ والوں سے برسرپیکار ہوگئی۔اورآخر مکہ والوں کو ذلیل ہو کرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کرنی پڑی کہ اس جماعت کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دے دی جائے۔اس کے بعد خود کفار کی باہمی لڑائی نے معاہدہ کے روسے مسلمانوں کو مکہ پرچڑھائی کاحق دےدیا۔اوراس طرح مکہ اچانک اوریکدم فتح ہوگیا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام امر الھدنة) اَوْ يَاْخُذَهُمْ فِيْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِيْنَۙ۰۰۴۷ یاوہ انہیں (قومی معاملات میں )ان کے آزادانہ تصر ف کی حالت میں ہلاک کردے پس (وہ یاد رکھیں کہ)وہ (ہرگز اللہ تعالیٰ کو ان باتوں کے پوراکرنے سے )عاجز نہ پائیں گے۔حَلّ لُغَات۔تَقَلُّبھمْ: تَقَلَّبَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں تَـحَوَّلَ عَنْ وَجْھِہِ۔اپنی جہت سے پھر گیا تَقَلَّبَ عَلٰی فَرَاشِہِ:تَحَوَّلَ مِنْ جَانِبٍ اِلٰی جَانِبٍ۔بستر پر کروٹیں لیتارہا۔تَقَلَّبَ فِی الْاُمُوْرِ:تَصَرَّفَ فِیْھَا کَیْفَ شَآءَ۔یعنی جس طرح چاہا اپنے معاملات میں خود مختاری سے کام لیا۔(اقرب) مُعْجِزیْنَمُعْجِزِیْنَ اَعْـجَزَ سے اسم فاعل جمع کا صیغہ ہے۔اوراَعْـجَزَہُ الشَّیْءُ کے معنے ہیں فَاتَہٗ۔وہ چیز