تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 93

اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَکَرُواالسَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ پھرکیاجولوگ(تیرے خلاف )بری (بر ی) تدبیریں کرتے چلے آئے ہیں وہ اس بات سے امن میں ہیں کہ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ اللہ (تعالیٰ)انہیں اس ملک میں(ہی)ذلیل (و رسوا)کردے یاوہ عذاب (جس کی خبر دی جاچکی ہے ) لَا يَشْعُرُوْنَۙ۰۰۴۶ جہاں سے وہ جانتے (بھی)نہ ہو ں اُ ن پر آجائے۔حلّ لُغَات۔یخسف یَخْسِفُ خَسَفَ سے مضارع واحد مذکر غائب کاصیغہ ہے اورخَسَفَ الْمَکَانُ خُسُوْفًاکے معنے ہیں :ذَھَبَ فِی الْاَرْضِ وَغَرِقَ۔کوئی جگہ زمین کے اند ر دھنس گئی۔خَسَفَ اللہُ تَعَالٰی الْاَرْضَ:اَسَاخَھَابِمَا عَلَیْھَا۔اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کو زمین سمیت غرق کردیا۔خَسَف اللہُ الْاَرْضَ بِفُلَانٍ:غیَّبَہُ فِیْھَا۔اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں غائب کردیا۔خَسَفَ فِی الْاَرْضِ وَخُسِفَ بِہِ مَجْھُوْلًااَیْ غَابَ فِیْھَا زمین میں دھنس کر غائب ہو گیا۔خَسَفَ فُلَانًا۔(بغیر صلہ کے)اَذَلَّہُ وَحَمَّلَہُ مَایُکْرَھُہُ۔ا س کو ذلیل کیا اوراس پر ایسے معاملات ڈالے جن کو وہ ناپسند کرتاتھا (اقرب) پس یخسفُ بِھم کے معنے ہوں گے کہ (۱)ان کو زمین میں دھنسادے (۲)ان کو زمین کے اندر غائب کردے (اقرب) تفسیر۔آیت اَنْ يَّخْسِفَ میں کفار کے انجام کی پیشگوئی اس آیت میں ایک اورپیشگوئی بیان کی گئی ہے جوکفار کے انجا م کے متعلق ہے۔فرماتا ہے کیاکافراس سے مامون ہوگئے ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ ان کو زمین کےاندر دھنسادے۔خسف کے معنی گمنام ہونے کے خسف کے معنے دھنسانے کے بھی ہیں اورذلیل کرنے کے بھی۔مگرجب ذلیل کرنے کے معنوں میں آئے تواس وقت اس کا مفعول بغیر کسی صلہ کے آتاہے جیسے کہ خَسَفَ فُلَانًا اورجب باء کاصلہ آئے توا س کے معنے دھنسادینے کے یااندرغائب کرنے کے ہوتے ہیں۔جیسے کہتے ہیں خَسَفَ الْاَرْضَ بِفُلَانٍ فلاں شخص کو زمین میں غائب کر دیا۔چونکہ اس آیت میں باء کاصلہ استعمال ہواہے اس لئے یہی معنے اس کے ہوسکتے ہیں کہ ان کو زمین کے اندر غائب کر دے یا دھنسادے۔لیکن مرادگمنام ہوجانے اورجیتے جی