تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 86
مِنْ بَعْدِ مَاظُلِمُوْایعنی ان کی ہجرت بغیر کسی وجہ کے نہیں۔بلکہ اس لئے ہے کہ لوگوں نے ان کو وہاں رہنے نہیں دیااورنکلنے پرمجبورکردیا۔مومن کو کفار کے ظلم کے باعث جلد ی اپنی جگہ نہیں چھوڑنی چاہیے اس آیت سے استدلال ہوتاہے کہ مومن کوجلدی ہی اپنی جگہ کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔بلکہ تبلیغ کر تے رہنا چاہیے جب تک کہ لوگ اس حد تک مجبورنہ کردیں کہ دین پر عمل وہاں ناممکن ہوجائے۔لَنُبَوِّئَنَّهُمْکے وعدہ کے مطابق صحابہ کی عزت لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ضرورہی ہم ان کو اسی دنیا میں اس سے بہتر مقام دیں گے چنانچہ اس کے مطابق جہاں بھی مسلما ن گئے وہیں ان کو بہتر مقام ملا۔یہ ذکر اس ہجرت کا ہے جو مدینہ کی طرف حضرت عمرؓ اوربعض اورصحابہؓ نے کی تھی۔مگر اس سے پہلے یا اس کے بعد جدھر بھی مسلمانوں نے ہجرت کی وہ جگہ ان کے لئے بہتر ہوگئی۔اگرہجرت کے آخری انجا م کودیکھاجائے تواس ہجرت کے نتیجہ میں معمولی تاجر اوراونٹ پالنے والے دنیا کے بادشا ہ ہوگئے۔وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُیعنی اصل مقام توجزا ء کابعد الموت آئے گا اور وہ انعام بہت بڑاہوگا۔مگر ان لوگوں کو سمجھا نے کے لئے دنیا میں بھی ہم مسلمانوںکو اعلیٰ مقام عطافرمائیں گے۔وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُکے معنے اس مقام سے جو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو دنیا میں ملا خو ب سمجھ میں آسکتے ہیں۔ان کو خدا تعالیٰ نے متمدن دنیا کے اکثر حصہ پر حکومت دی۔جب انعام کا یہ حقیر حصہ تھاتوبڑاحصہ کیاہوگااورہراک صحابی کیا اجر پارہاہوگا۔اس آیت کا تعلق پہلی آیت سے یہ ہے کہ اس میں بتایاتھا کہ تم قیامت کے منکر اس لئے ہو کہ ایسا ہوناناممکن ہے لیکن دیکھتے نہیں کہ کس طرح ہم اس دنیا میں حکم دیتے ہیں اورناممکن باتیں ممکن ہوجاتی ہیں۔پھر بعث بعدالموت کو تم ہمارے لئے کیو ں ناممکن خیال کرتے ہو۔اب اس دعویٰ کی تائید میں ایک پیشگوئی فرماتا ہے جویہ ہے کہ مکہ والے تو مسلمانوں کوذلیل سمجھتے ہیں اوران کو تکلیف دے کر اس لئے وطن سے نکالنا چاہتے ہیں کہ یہ باہر جاکر بے گھر بے درہوجائیں اورتکلیف پائیں۔مگرہم پیشگوئی کرتے ہیں کہ ان کا باہر نکلنا مفید ہوجائے گااوراس ہجرت کے نتیجہ میں ان کو دینی ہی نہیں بلکہ دنیوی فوائد بھی پہنچیں گے اورانہیں حکومت مل جائے گی۔یہ پیشگوئی اس وقت کی گئی تھی جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں ہی تھے۔اورمسلمان ایسے کمزو ر تھے کہ مکہ والے آپ کو قتل کرنے یاگھر سے نکال دینے یاقید کرنے کے منصوبے کررہے تھے۔اس کے ایک دوسال کے اندر اس ہجرت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوبادشاہ بنا دیا۔یہ ایک زبردست نشان ہے ان لوگوں کے لئے جو قیامت کا انکار اس