تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 85

يَعْلَمُوْنَۙ۰۰۴۲ حقیقت کو)جانتے۔حَلّ لُغَات۔لَنُبَوّئَنَّھُمْلَنُبَوِّئَنَّھُمْ بَوَّأَ سے مضارع متکلم کاصیغہ ہے اوربَوَّأَہٗ اور بَوَّأَ لَہٗ مَنْزِلًا کے معنے ہیں:ھَیَّاَ ہُ ومَکَّنَ لَہُ فیْہِ۔اس نے اس کے رہنے کے لئے مکان تیارکیا (اقرب)پس لَنُبَوِّئَنَّھُمْ کے معنے ہوئے۔ہم ضروران کے لئے جگہ بنائیں گے۔تفسیر۔اس رکوع میں پچھلی آیت کُنْ فَیَکُوْنُ کاثبوت دیا ہے کہ دیکھ لو تھوڑی سی جماعت ہے تم نے ان پر ایسے ظلم کئے ہیں کہ ان کو ملک چھوڑنا پڑا۔پس ایسے لوگوںکوہم دنیا میں اچھی سے اچھی جگہ دیں گے اوریہ ہوکررہے گا۔فِي اللّٰهِ میں لفظ فِی کے تین معانی فِي اللّٰهِاس کے معنے کئی طرح ہوسکتے ہیں (۱)فِی بمعنی لام ہو۔اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ انہوں نے اللہ کی خاطرہجرت کی۔اس کے سواکوئی اورمقصدان کا نہ تھا۔حدیث میں آیا ہے کہ ہجرتیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔کوئی انسان بیوی کی خاطر ہجرت کرتا ہے کوئی مال کی خاطر۔کوئی خدا کی خاطر(بخاری کتاب بدءالوحی باب کیف کان بدء الوحی الیٰ رسول اللہ )۔توفرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جوصرف خدا تعالیٰ کی خاطرہجرت کررہے ہیں۔آج دشمن اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے روپے کی خاطرلڑائیاں کیں۔عالم الغیب خداجوجانتاتھا کہ ایسے اعتراض اس کے پاک بندوں پرکئے جائیں گے اس نے لڑائیوں کے شروع ہونے سے بھی پہلے اس اعتراض کا جواب دے دیا۔(۲)اس میں مضاف کو مقدر سمجھاجائے اورعبارت یوں سمجھی جائے فِی دِیْنِ اللہِ یعنی وہ اللہ کے دین کی خاطر ہجرت کرتے ہیں۔یعنی ان کی ہجرت اس غرض سے ہے کہ مکہ میں تودین کاکام کرنے کی آزادی نہیں۔پس ترک وطن کرکے ایسی جگہ چلے جائیں جہاں دین کی خدمت کرنے کی آزادی ہو۔(۳) فِیْ کے وہی معنے لئے جائیں جو زیاد ہ معرو ف ہیں۔اس صورت میں ان الفاظ کا یہ مطلب ہوگاکہ انہوں نے اللہ میں ہوکر ہجرت کی۔یعنی کلی طورپر اللہ تعالیٰ کو اپنے پر مستولی کرلیا۔اوراس کی صفات کو اختیار کرلیا اوراپنے نفس کو مارکر اپنے ہر اک کام کوخدا تعالیٰ کے لئے کردیا۔پس گویا ان کامکہ سے نکلنا چند انسانوں کا نکلنانہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کامکہ سے نکل جاناتھا۔ا ن کے جانے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ بھی مکہ والوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔