تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 87

لئے کرتے ہیں کہ ایسی بات کس طرح ہوسکتی ہے۔جوخداعجائبات دکھانے کاعادی ہے اس کی کس قدر ت پر انسان تعجب کرسکتا ہے۔الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۰۰۴۳ جو (ظلموں کا نشانہ بن کر بھی )ثابت قد م رہے اور(جوہمیشہ ہی )اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں حَلّ لُغَات۔صَبَرُوْا۔صَبَرُوْا صَبَرَ سے جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے۔صَبَرَ کی تشریح کے لئے دیکھو رعد آیت نمبر۲۳۔صَبَرُوْاصَبَرَ سے جمع کا صیغہ ہے اور الصَّبْرُکے معنے ہیں تَرْکُ الشِّکْوٰی مِنْ اَلَمِ الْبَلْوٰی لِغَیْرِاللہِ لَا اِلَی اللہِ کہ مصیبت کے دکھ کا شکویٰ خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کےپاس نہ کرنا۔فَاِذَا دَعَا اللہَ الْعَبْدُ فِیْ کَشَفِ الضُّرِّ عَنْہُ لَا یُقْدَحُ فِیْ صَبْرِہِ۔اگر بندہ اپنی رفع مصیبت کے لئے خدا تعالیٰ کے پاس فریاد کرے تو اس کے صبر پر اعتراض نہ کیا جائے گا۔وَقَالَ فِی الْکُلْیَاتِ الصَّبْرُ فِی الْمُصِیْبَۃِ۔اور کلیات میں لکھا ہے کہ صبر مصیبت کے وقت ہوتا ہے۔وَصَبَرَ الرَّجُلُ عَلَی الْاَمْرِ نَقِیْضُ جَزِعَ اَیْ جَرُؤَ وَشَجُعَ وَتَجَلَّدَ اور صبر جزع یعنی شکویٰ کرنے اور گھبرانے کے مقابل کا لفظ ہے اور صَبَرَ کے معنے ہوتے ہیں دلیری دکھائی۔جرأت دکھائی۔ہمت دکھائی۔اور صَبَرَ عَنِ الشَّیْءِ کے معنے ہیں اَمْسَکَ عَنْہُ کسی چیز سے رکا رہا۔اَلدَّابَۃَ حَبَسَہَا بِلَاعَلَفٍ۔اور صبر کا مفعول دابّۃ ہو تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ جانور کو بغیر چارہ دینے کے روکے رکھا۔صَبَرْتُ نَفْسِیْ عَلٰی کَذَا کے معنے ہیں میں نے اپنے نفس کو کسی چیز پر قائم رکھا یا کسی چیز سے روکے رکھا۔چنانچہ انہی معنوں میں صَبَرْتُ عَلٰی مَااَکْرَہُ وَصَبَرْتُ عَمَّا اُحِبُّ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے کہ تکلیف دہ حالت پر میں نے نفس کو استقلال سے قائم رکھا اور پسندیدہ امور سے نفس کو باز رکھا گویا صبر کے تین معنے ہوئے گناہ سے بچنا اور اپنے نفس کو اس سے روکے رکھنا۔(۲)نیک اعمال پر استقلال سے قائم رہنا۔(۳)جزع فزع سے بچنا۔(اقرب) یَتَوَکَّلُوْنَ یَتَوَکَّلُوْنَ تَوَکَّل سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے مزید تشریح کے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر ۶۸۔تَوَکّلَ عَلَی اللہِ : اِسْتَسْلَمَ اِلَیْہِ وَاعْتَمَدَ وَوَثِقَ بِہِ توکل علی اللہ کے معنی ہیں کہ اپنے آپ کو اللہ کے