تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 5
اوردودھ دیتا ہے اوریہ خدا تعالیٰ ہی کی بنائی ہوئی مشین کاکام ہے۔اسی طرح انسانی اخلاق جوبہیمیت کے تابع ہوتے ہیں گھاس کی طرح ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ انہی بہیمی اخلاق کو اپنے الٰہی قانون کے ماتحت لا کراعلیٰ اخلاق بنادیتاہے۔پھر نحل کی مثا ل دی کہ اس کے کاموں کو دیکھو کہ وہ بھی تو ایک وحی کے ماتحت عمل کرتی ہے اورمعمولی نباتی اجزاء سے شہد تیار کرتی ہے۔اس سے سمجھ لو کہ دنیا کے سب کام ایک وحی خفی کے ماتحت چل رہے ہیں۔پھر کیوں نہ انسان کے اخلاق کو اعلیٰ بنانے کے لئے کسی وحی کانزول ہو اورکیوں نہ اس وحی کے نتائج اسی طرح شفاکی صورت میں پیداہوں۔جس طرح شہد کی مکھی کے عمل کانتیجہ شفاہوتی ہے ہاں جس طرح شہد کی مکھیوں کی اقسام ہیں اورشہد کے مدارج ہیں اسی طرح انسانوں کے مدارج ہیں۔اورگوسب مومن وحی کے تابع ہیں مگرہرایک اپنے ظرف کے مطابق روحانی شہد تیار کرتاہے۔پھر ایک اور طرح وحی الٰہی کی ضرورت بتائی اورفرمایا جب بھی اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ترقی دیتا ہے کچھ عرصہ کے بعد اس کی حاصل کردہ ترقیاں ایک خاص گروہ کے قبضہ میں آجاتی ہیں۔اور دوسرے لوگوں کے لئے ترقی کاراستہ مسدود ہو جاتا ہے۔کیونکہ قوم پر قابض لوگ انہیں باوجود قابلیت کے آگے نہیں آنے دیتے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنے فضل کاوارث بنایاہے۔ان حالات کو سوائے وحی کے کس طرح بدلاجاسکتاہے۔یقیناً اس زمانہ کے بڑے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم قابل ہیں اس لئے قوم کی باگ پر قابض ہیں۔اوران کے دعویٰ کے رد کرنے کاکوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نئے امتحان کاانتظام کیا جائے۔پس اس غرض کوپوراکرنے کے لئے نبی کاآناضروری ہوتاہے جب وہ آتا ہے توظاہرہو جاتا ہے کہ جو لو گ قوم پر حکومت کررہے تھے وہ قابل نہ تھے کیونکہ وہ الٰہی کلام کو ماننے سے محروم ر ہ جاتے ہیں۔اورجولوگ ادنیٰ سمجھے جاتے تھے وہ مان جاتے ہیں۔اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ قابلیت والے اور لوگ تھے۔اس طرح اللہ تعالیٰ انسانی حقوق کی پھر سے حفاظت کردیتاہے۔اورپھر سے ہرانسان اپنی قابلیت کے مطابق ترقی کرنے لگ جاتا ہے۔اورنسلی امتیاز کے نظام کو توڑ دیاجاتاہے۔اس امر کی تائید میں ایک اوردلیل دی اورفرمایا کہ جب قومیں اللہ تعالیٰ سے دور ہوجاتی ہیں۔توشرک کرنے لگتی ہیں۔اوراس طرح ایسے وجودوں سے متعلق ہوجاتی ہیں۔جو خیر وشر کے مالک نہیں۔اوراس طرح ترقی کے حقیقی سامانوں سے محروم ہوجاتی ہیں۔اگرا س حالت کو نہ بدلاجائے۔توسب دنیا ترقی سے محروم ہوجائے۔پھر فرمایاکہ ایک نقص تووحی سے بُعد کایہ ہوتاہے کہ بعض لوگ جبراً قوم کی با گ لے لیتے ہیں اورلوگوںکو