تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 4

مومن اورکافرکو الگ نہ کرے گا کہ ہرایک اپنے راستہ پر بلاروک ٹوک چل سکے۔اس ضرورت کے پوراکرنے کے لئے روحانی ہجرت کی ضرورت ہے جوموت کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔اس ہجرت کے بعد مومن اورکافر الگ الگ راستہ پر چل پڑتے ہیں۔اورمومن بلاروک ٹوک اپنے خالص انتظام کے ماتحت جنت میں روحانی ترقیات کو حاصل کرنا شروع کردیتے ہیں۔مسلمانوں کودنیوی ہجرت کے بعد جو ترقی ہوگی۔اُسے کفار دیکھ ہی لیں گے۔وہ اسی سے قیاس کرسکتے ہیں کہ مومن روحوں کاکافروں سے الگ کرکے رکھنا ان کی پیدائش کی غرض کے پوراکرنے کے لئے کیساضروری ہے۔پھر ہجرت دنیوی کے نتائج کی طرف اشارہ کیاکہ کس کس طرح اس سے کفارپر عذاب آئیں گے اورکس طرح مومنوں کو ترقی حاصل ہوگی۔اوراس کی وجہ کوئی دنیو ی ذرائع نہیں ہوں گے۔بلکہ محض توحید پرقیام اس کاباعث ہوگا۔پھر بتایاکہ آخر ت پر ایمان نہ لانے سے انسانی اعمال میں نقص آجاتاہے۔یہ بھی یوم البعث کی ضرورت کاثبوت ہے۔پھر بتایا کہ ڈھیل کاملنا اس امر کی علامت نہیں کہ خدا تعالیٰ دین کو قائم نہیں کرناچاہتا۔بلکہ انسانی نجات کی اہمیت کو ثابت کرتاہے۔دنیا میں ڈھیل کاقانون طبعی عالم میں بھی پایا جاتا ہے۔پھر کیوں دین کے بارہ میں نہ ہو۔خصوصاً جبکہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو نجات دینے کی غرض سے ڈھیل دے کر انہیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں نجات دیناچاہتاہے۔پھر جبر کارد اس طرح کیا کہ بدی کوخوبصورت کرکے دکھاناشیطان کاکام ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ کاکام توصرف ہدایت کو بیان کرنا ہے۔ہاں وہ اپنے عظیم الشان رحم سے ہدایت کے مزید سامان اس طرح پیداکردیتا ہے کہ کلام الٰہی ہمیشہ مومنوں کے لئے رحمت ثابت ہوتاہے اوراس طرح عقلمندوں پر ظاہر ہو جاتا ہےکہ اللہ تعالیٰ اس راہ کو پسند کرتاہے۔پھر بتایا کہ ان کایہ اعتراض ہے کہ اگر یہ سچا ہے توپہلی تعلیموں کی مخالفت کیوں کرتاہے۔اوربتایا کہ پہلے نبیوں کو کافر قرار دینا اوربات ہے اوررائج الوقت باتیں جو ان کی طرف منسوب ہیں ان کوماننااوربات ہے۔نبی توآتاہی تب ہے جب لوگ پہلی تعلیموںکو جو سچی تھیں مسخ کردیتے ہیں اورجب وہ الٰہی حفاظت سے باہر ہوجاتی ہیں۔پھر ایک لطیف مثال دی کہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ ہی کے شایان شان ہے۔جانورکو دیکھو گھاس کھاتاہے