تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 6

قابلیت کے اظہار کاموقعہ ہی نہیں دیتے۔ایک اورنقص بھی پیداہو جاتا ہے اوروہ یہ کہ شرک کی و جہ سے اکثروں کی قابلیتیں مر ہی جاتی ہیں۔پھرخدائے رحیم اس حالت کو کس طرح برداشت کرے اس طرح تو وہ اپنے عمل کو خود باطل کرے گایہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ پہلے قابلیت دے پھر ا س قابلیت کو مرنے دے یاظالموںکو موقعہ دے کہ اس قابلیت کو ظاہرہونے سے روک دیں۔غرض کفار کے دعاوی باطل ہیں اورخدا تعالیٰ کی حکمت چاہتی ہے کہ جو ان ظلموں کے بانی ہیں ان کو تباہ کردے۔پس جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ظاہری حفاظت کے سامانوں سے سبق حاصل نہیں کیا انہیں ظاہری حفاظت سے بھی محروم کردیاجائے گا۔ا وراس دنیامیں بھی اوراگلے جہان میں بھی وہ جھوٹی حفاظت جوشرک کے رنگ میں انہوں نے اپنے لئے تجویز کی تھی ان کی ذلت کاموجب ہوگی۔لیکن بتایا کہ ظالمو ں میں بھی ہم فرق کریں گے۔جو گمراہ کرنے والے ہیں زیادہ سزاپائیں گے اورجوجہالت سے ان کے تابع ہوئے کم سزاپائیں گے۔پھر فرمایا کہ یہ دیکھتے نہیں کہ جن تغیر ات کا ہم نے ذکر کیا ہے اس کے سامان کیسے واضح ہیں اول قرآن کریم میں اندرونی شہاد ت موجود ہے کہ وہ ایک مکمل تعلیم پرمشتمل ہے پھر اس کی تعلیم ترقی کی طرف لے جانے والی ہے۔پھرعملاً اس پر چلنے والے برکتیں پاتے ہیں۔اس کے بعد کامل تعلیم کی بعض مثالیں بیان کیں۔اس پرکفار کا اعتراض پھر دہرایاکہ یہ تعلیمیں توپہلی کتب کے خلاف ہیں۔اورفرمایاکہ یہ اختلاف سطحی ہے۔ہرزمانہ کے مطابق کلام اترتا ہے۔پھر بتایاکہ اس جواب کو سن کر کفار پینترہ بدلتے ہیں۔اورکہتے ہیں یہ پہلی کتب کی نقل ہے۔اس کا جواب دیااورثابت کیا کہ نقل کااعتراض بالکل خلاف عقل ہے۔پھرہدایت کے سلسلہ میں بتایا کہ بے شک بعض لو گ اس مذہب سے مرتد بھی ہوتے ہیں۔لیکن ان کا مرتد ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ قرآن کریم نے یقین کامل پیدا نہیں کیا۔کیونکہ یہ امر تب ثابت ہوتا اگر ایسے لوگوں کاارتدادکسی دلیل کی بناء پر ہو۔جبکہ دنیوی غرض سے انحراف ہو توارتداد مرتد کاگند ثابت کرتا ہےنہ کہ تعلیم کی کمزوری۔پھر بتایاکہ مؤمنوں کے لئے اب حکومت کرنے کا وقت آگیاہے اورقرآنی بشارات اب ان کے حق میں پوری ہونے کو ہیں۔ایک زبردست جنگ کفرو اسلام میں ہونےوالی ہے۔اس میں ہرایک کو اس کے ایمان کے مطابق