تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 84

خیال بھی نہ تھا کہ پیچھے رہیں۔مگر جب جنگ کے لئے باہر نکلنے کاحکم ہواتواس وقت وہ گھر پر موجود نہ تھے۔جب وہ گھر آئے توانہوں نے دیکھا کہ ان کی بیوی ان کے انتظار میں بیٹھی ہے جیسے کوئی باتیں کرنے کی خواہش رکھتاہو۔انہوں نے بیوی کی اس خواہش کو نظر انداز کرتے ہوئے بیوی سے پوچھا کہ کیا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ہیں۔ان کی بیوی نے کہا کہ ذرابیٹھ توجائو۔انہوں نے جواب دیا کہ خدا کارسول توجنگ کے لئے روانہ ہوجائے اورمیں گھر میں آرام کروں۔ابوخثیمہ سے ایسانہیں ہوسکتا۔اوراسی وقت نکل کر گھوڑے کو تیار کیااوراس پر سوار ہوکر اس راستہ پر چل پڑے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے۔آخر مارامار سفر کرکے کئی منزلوں کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوگئے۔جب یہ لشکر کے قریب پہنچے توبعض صحابہ نے دور سے گرد اُٹھتی ہوئی دیکھی اورخیال دوڑانے لگے کہ یہ کون آرہاہے۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کُنْ اَبَاخَیْثَمَۃُ۔ابوخیثمہ ہوجا۔اب اس فقرہ کا یہ مطلب توہونہیں سکتا۔کہ آنے والاکوئی بھی ہو وہ ابوخیثمہ بن جائے پس اس کے معنے یہی ہیں کہ میری خواہش ہے کہ آنے والا ابوخیثمہ ہو (تاریخ الطبری احداث سنہ ۹ ذکر الخبر عن غزوۃتبوک) کُنْ کے یہی معنے اس آیت میں ہیں اورمطلب آیت کا یہ ہے کہ جب ہم چاہتے ہیں کہ کوئی امر وقوع میں آ ئے توہم خواہش کرتے ہیں کہ وہ امر اس طرح ظہور میں آجائے اورہمارے اس اراد ہ کے بعد اسی طرح ظہور میں آجاتاہے پس اس جگہ کسی معدوم شے کو حکم دینے کاسوال ہی نہیں۔کُن کالفظ صرف آئندہ وقوع کی خواہش پر دلالت کرتا ہے۔آیت کا مطلب غرض اس آیت کاصر ف یہ مطلب ہے کہ جب ہم چاہتے ہیں کہ کوئی امر ہوجائے توہم اس قسم کی چیز کے پیداکرنے کاارادہ کرلیتے ہیں اورجس طرح ہم ارادہ کرتے ہیں اسی طرح واقعہ ہو جاتا ہے۔وَ الَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِي اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ اورجن لوگوں نے اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیاگیا اللہ (تعالیٰ)کے لئے ہجرت اختیار کی(ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا کہ)ہم انہیں ضرورہی دنیا میں اچھی جگہ دیں گے۔اورآخرت کااجر (تو)اوربھی بڑاہوگا۔کاش یہ (منکر اس