تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 69
رہائش اختیار کرنا ٹھہرنا۔(مفردات) اَلْمَثْوٰی۔اَلْمَنْزِلُ۔اترنے اور ٹھہرنے کی جگہ (اقرب) تفسیر۔اس آیت میں پھر اس امر پر زور دیا ہے کہ جو متکبر ہویعنی حق کو سمجھتا ہو۔لیکن شرارت کی وجہ سے اوراس خیال سے کہ میں کیوں نبی کا متبع ہوکر چھوٹابنوںحق کا انکار کرنے والاہووہ بہت سزاپائے گا۔بہ نسبت اس کے جو مجر م توہے مگر اس کاجرم شرار ت سے نہیں بلکہ غفلت اورلاپرواہی کی وجہ سے ہے۔یہ موجب بھی گومستحق سزابناتا ہے مگر تکبر کے موجب سے کم۔بِئْسَ کے معنی زیادہ برے کے ہوتے ہیں۔پس اس لفظ سے دونوں قسم کے مجرموں کا فرق بیا ن کیا گیا ہے۔وَ قِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ اور(جب)ان لوگوں سے جنہوں نے تقویٰ(کاطریق )اختیار کیا ہے کہا گیا (کہ)تمہارے ر ب نے کیا (شاندار قَالُوْا خَيْرًا١ؕلِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ کلام )اتاراہے توانہوں نے کہا (کہ ہاں)بہترین۔جنہوں نے نیکو کاری(کی راہ )اختیار کی ان کے لئے اس دنیا الدُّنْيَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُالْاٰخِرَةِ خَيْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ (کی زندگی )میں (بھی) بھلائی (مقدر)ہے۔اورآخرت کا گھر (توان کے لئے )اوربھی بہتر ہوگا۔اورتقویٰ دَارُ الْمُتَّقِيْنَۙ۰۰۳۱ اختیارکرنے والوں کا گھر یقیناًبہت (ہی )اچھا ہوتا ہے۔حلّ لُغَات۔خَیْرًا۔اَلْـخَیْرُ:وِجْدَانُ الشَّیْءِ عَلٰی کَمَالَاتِہِ اللَّائِقَۃِ۔کسی چیز کا اس کے مناسب کمالات سمیت پائے جانے کانام خیر ہے۔وَقِیْلَ حُصُوْلُ الشَّیْءِ لِمَا مِنْ شَأْنِہٖ اَنْ یَّکُوْنَ حَاصِلًا لَہٗ اَیْ یُنَاسِبُہٗ ویُلِیْقُ بِہٖ۔اوربعض محققین نے کہا ہے کہ کسی چیز کا ایسے طور پر ہونا کہ اس میں اس کے شایا ن شان باتیں پائی جائیں خیر کہلاتا ہے۔اَلْمَالُ مُطْلَقًا۔مال۔اَلْکَثِیْرُ الْخَیْرُ۔خیر اس شخص کو بھی کہتے ہیں جس میں ہرقسم کے کمالات بکثر ت پائے جائیں۔(اقرب) نِعْمَ نِعْمَ فعل مدح کہلاتاہے۔یعنی جب کسی کی تعریف کرنی مقصود ہو تواس وقت یہ فعل استعمال کیا