تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 70

جاتاہے۔جس کی تعریف کی جا ئے اسے مخصوص بالمدح کہتے ہیں ا س کے فاعل اورمخصوص بالمدح کے وہی احکام ہیں جو پہلے بِئْسَ کے متعلق لکھے جاچکے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔قرآن مجید کے متعلق مومنوں کا نقطہ نگاہ اس آیت میں مومنوں کے نقطہ نگاہ کوظاہر کیا گیا ہے کہ وہ قرآن مجید کو کس نگاہ سے دیکھتے تھے۔اگر کوئی کہے کہ وہ تومسلمان تھے انہوں نے تو یہ کہنا ہی تھا ان کی گواہی کوئی وقعت نہیں رکھتی۔تو ہم کہتے ہیں کہ ان کا یہ قول اس وقت کا ہے جبکہ وہ مکہ میں تھے۔چاروں طرف سے ان کو تنگ کیاجاتاتھا اوران کو جان کے لالے پڑ رہے تھے۔ایسے وقت میں ان کا اس کتاب کو قبول کرلینا اوراس کے متعلق یہ رائے ظاہر کرنا اس کی سچائی کی نہایت زبردست شہادت ہے۔قَالُوْا خَيْرًا۔انہوں نے کہا یہ کتاب مناسب کمالات کے ساتھ نازل ہوئی ہے یعنی جو باتیں کسی روحانی کتاب میں چاہئیں وہ سب بتمام و کمال اس میں موجود ہیں۔یاجیساخیا ل تھا کہ ایسی کتاب آنی چاہیے اس سے بھی بہتر ا س کو پایا۔نقطہ نگاہ بدلنے سے عمل میں فرق اَحْسَنُوْا۔اس میں یہ بتایا ہے کہ نقطہ نگاہ کے بدلنے سے عمل میں کتنافرق پڑ جاتاہے۔ایک گروہ نے اسے اساطیر الاولین کہا۔پس اس کے وعید سے نہ ڈرے اورہلاکت کا شکار ہوگئے۔اورمومن جنہوں نے اسے خیر سمجھا وہ اس کی پوری اتباع کرنے میں لگ گئے اورآخر خیر والے مقام یعنی جنت میں پہنچ گئے۔وہ مقام کیسا ہے اس کا ذکر اگلی آیت میں کیا گیا ہے۔جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا۠ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ (وہ گھر )دائمی رہائش کے باغات( ہیں )جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے اند ر نہریں بہتی ہوں گی۔ان لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ يَجْزِي اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَۙ۰۰۳۲ (باغوں)میں جو کچھ و ہ چاہیں گے انہیں ملے گا۔تقویٰ اختیار کرنے والوں کواللہ (تعالیٰ)اسی طرح جزاء دیا کرتا ہے۔حلّ لُغَات۔جَنَّاتُ عَدْن کے لئے دیکھو رعد آیت نمبر ۲۹۔جَنّٰتٌ جَنَّۃٌ کی جمع ہے اور اَلْجَنَّۃُ جَنَّ میں سے ہے۔وَاَصْلُ الْجَنِّ سَتْرُ الشَّیْءِ۔جَنَّ کے اصل معنے کسی چیز کو ڈھانپنے کے ہیں۔یُقَالُ جَنَّہُ اللَّیْلُ چنانچہ جَنَّہُ اللّیْلُ کا محاورہ انہی معنوں میں مستعمل ہے کہ رات نے