تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 68
فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى اس لئے (اب )تم جہنم کے دروازو ں میں سے اس میں ہمیشہ کے لئے ٹھکانہ بناتے ہوئے داخل ہو۔کیونکہ تکبر الْمُتَكَبِّرِيْنَ۰۰۳۰ کرنےوالوںکا ٹھکانہ یقیناًبہت بُرا(ہوتا)ہے۔حل لغات۔جَھَنَّمُ۔کے لئے دیکھو رعد آیت نمبر۱۹۔جَھَنَّمُ دَارُالْعَقَابِ کا نام ہے۔یہ ممنوع من الصرف ہے۔بعض کے نزدیک یہ لفظ عجمی ہے۔بعض اسے اصل میں فارسی یا عبرانی قرار دیتے ہیں لیکن یہ درست نہیں کہ عربی کے الفاظ کو غیرزبانوں کی طرف منسوب کیا جائے۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لفظ ایسے قاعدہ سے بنایا گیا ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔اس وجہ سے اس کو انہوں نے غیرزبان کا قرار دے دیا۔عربی میں جَھَنَ۔جُھُوْنًا کے معنے قَرُبَ وَدَنَا کے ہوتے ہیں اور اس سے جَھَنَّمُ بنا ہے یا یہ لفظ جَھَمَ سے بنا ہے۔عربی زبان میں زیادۃِ نون فی وسط الکلمہ کی مثالیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔پس جَھَمَ سے جَھَنَّمُ کا بننا خلاف قواعد نہیں اور جَھَمَ کے معنے ہیں اِسْتَقْبَلَہٗ بِوَجْہِ مُکْفَھِرٍّ۔کہ اس کو تیوری چڑھا کر ملا اور تَجَھَّمَہُ کے معنے ہیں اِسْتَقْبَلَہٗ بِوَجْہٍ کَرِیْہٍ برے چہرے سے ملا۔(اقرب) پس جَھَنَّمُ کے معنے ہوئے ایک ناپسندیدہ جگہ جو ناراضگی سے لینے کو بڑھتی ہے۔یہ نام اس کے شعلے مارنے کی وجہ سے رکھا گیا۔بِئْسَ۔بِئْسَفعل ذم کہلاتاہے۔یعنی جب کسی کی مذمت مقصود ہو۔اس وقت یہ فعل استعمال کرتے ہیں۔جس کی مذمت کی جائے اُسے مخصوص بالذّم کہتے ہیں۔اس کے بعد اس کا فاعل آتاہے اورپھر مخصوص بالذّم۔فاعل اور مخصوص بالذم دونو ں مرفوع ہوتے ہیں۔اس کے فاعل کے لئے ضروری ہے کہ لام جنس کے ساتھ مقرون ہو۔یامقرون بلام الجنس کی طر ف مضاف ہو۔جیسے بِئْسَ الرَّجُلُ زَیْدٌ اور بِئْس غُلَامُ الرَّجُلِ بِکْرٌ۔اور کبھی اس کا فاعل ظاہراً مقرون باللام نہیں ہوتا۔بلکہ اس کی جگہ نکرہ منصوب تمییز کے رنگ میںلے آتے ہیں یا مَانکرہ استعمال کرلیتے ہیں۔جیسے بِئْسَ رَجُلًا زیْدٌ اور بِئْسَ مَازَیْدٌ میں رَجُلًا اور مَااستعمال ہوئے ہیں (اقرب) مَثْوَی کے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر ۲۲۔مَثْوًی ثَوَاءٌ میں سے مصدر میمی یا اسم ظرف ہے جس کے معنے ہیں اَلْاِقَامَۃُ مَعَ الْاِسْتَقْرَارِ کسی جگہ