تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 67

اس کے ذریعہ سے ہرایک دوسرے کے شر سے بچ جاتا ہے۔فَاَلْقَوُا السَّلَمَ سے یہ مراد ہے کہ وہ یہ دیکھ کر کہ اب تو ہم پکڑے گئے اوربچنے کی کوئی راہ نہیں مصالحانہ باتیں کریں گے۔فَاَلْقَوُا السَّلَمَ کے لفظی معنے یہ ہوسکتے ہیں کہ وہ صلح کی طرح ڈالیں گے۔مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍمیں بتایاگیا ہے کہ وہ اس وقت یہ توکہہ نہیں سکیں گے کہ ہم نے معبودان باطلہ کی عبادت نہیں کی۔پس وہ اپنے مشرکانہ اعمال کی اس طرح تشریح کریں گے کہ جوکچھ ہم نے کیا بدی کی نیت سے نہیں کیابلکہ نیک نیتی سے کیاتھا۔مَا كُنَّا نَعْمَلُکے الفاظ میں کفار کی طرف سے اپنے شرک کرنے میں معذرت میرے نزدیک مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍکے معنے یہ نہیں کہ ہم نے کوئی شرک نہیں کیا۔بلکہ یہ کہ ہمار افعل جو بھی تھا وہ بدی کی نیت سے نہ تھا۔اس کامحرک سُوْٓءٍ نہیں تھا۔بلکہ نیک نیتی سے وہ فعل کیاگیاتھا۔اس دنیا میں بھی جب مشرک توحید کے دلائل کے سامنے عاجز آجاتے ہیںتوکہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم توبتوں وغیرہ کو سجدہ خداسمجھ کر نہیں کرتے۔بلکہ صرف توجہ کے قیام کے لئے ایسا کرتے ہیںورنہ عبادت توہم اللہ تعالیٰ کی ہی کرتے ہیں۔بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَمیں کفار کی معذرت کا جواب بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ کہہ کر یہ بتلایا ہے کہ یہ تمہار اصر ف ڈھکونسلا ہے۔خدا تعالیٰ کوخوب معلوم ہے کہ تم کس نیت اورارادہ سے معبودان باطلہ کی عبادت کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کی تلاش سچے دل سے کرتے توان کی توجہ کے لئے ان جھوٹے سامانوں کی کیاضرورت تھی۔نیز یہ بھی بتایا کہ یہ عذر جھو ٹا ہے تم تو فی الواقع مشرک تھے۔مَا كُنَّا نَعْمَلُ کے ایک اور معنے مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ ہم نے اپنی سمجھ کے مطابق کوشش کی اورجو کچھ کیا حق سمجھ کر کیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے۔اگر تم نیک نیتی سے یہ کا م کرتے توہم تم کو ہدایت کیوں نہ دیتے۔ہما راتویہ قانون ہے کہ وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْافِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت :۷۰) جو لوگ صحیح طورپر ہماری تلاش کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنا راستہ دکھاتے ہیں۔پس اگر تم نیک نیتی سے ہمیں پانے کی کوشش کرتے توغلط راستہ پر کبھی نہ چلتے۔ہم خود تم کو ہدایت دیتے۔پس اس عذر کی وجہ سے تم سزاسے نہیں بچ سکتے۔