تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 61

ہیں۔اَلْحِمْلُ الثَّقِیْلُ۔بھاری بوجھ۔اس کی جمع اَوْزَارٌآتی ہے (اقرب) تفسیر۔فرمایا اس قسم کی باتوں سے یہ عوام کو دھوکاتودے لیتے ہیں۔لیکن اپنی عاقبت کواوربھی خراب کرلیتے ہیں۔آخر جزاء کے دن ان کے اپنے بداعمال کے علاو ہ اس جر م کی سزابھی ان کو ملے گی کہ فریب اوردھوکے سے جاہل عوام کوگمراہ کرتے رہے۔لِيَحْمِلُوْۤا میں لام۔لام عاقبت ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ پہلی بات کے نتیجہ میں یہ بات پیداہوئی ہے۔اورمعنے یہ ہیں کہ اس دھوکہ دہی کانتیجہ یہ نکلے گاکہ یہ اپنے گناہوں کی سزابھی پائیں گے اوران کے اعمال کی بھی جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہوگا۔بِغَيْرِ عِلْمٍ يُضِلُّوْنَهُمْ کی ضمیر مفعول کا حال ہے بِغَيْرِ عِلْمٍ۔يُضِلُّوْنَهُمْ کی ضمیر مفعول کاحال ہے اور یہ مراد نہیں کہ گمراہ کرنے والے بغیر علم کے گمراہ کرتے ہیں۔کیونکہ ان آیات میں توذکر ہی یہ ہے کہ یہ لوگ شرارت سے گمراہ کر رہے ہیں۔بلکہ معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ اپنے اتباع کو جوکوئی علم نہیں رکھتے باتیں بناکر گمراہ کردیتے ہیں۔کَامِلَۃً کے لفظ کے دو معنے کَامِلَۃً۔اس لفظ کے دوطرح معنے کئے جاسکتے ہیں (۱)اگرتواسے يَوْمَ الْقِيٰمَةِ کا متعلق سمجھاجائے تومعنے یہ ہوں گےکہ کچھ سزاتوانہیں یہاں دنیا میں ملے گی لیکن پوری سزاان کو قیامت میں ملے گی (۲)اگر اسے لِيَحْمِلُوْۤا کامتعلق سمجھاجائے تواس کے معنے ہوں گے کہ یہ اپنے سارے کے سارے بوجھ اٹھائیں گے اورکوئی بوجھ کم نہ ہوگا۔یعنی مومن تواستغفار کرتا رہتا ہےاس لئے اس کے بوجھ کم ہوتے رہتے ہیں اورگناہ معاف ہوتے رہتے ہیں۔مگر یہ متکبر ہیں اس لئے ان کے سب گناہ باقی رہ جائیں گے اورسب کی سزا ان کو ملے گی۔قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْيَانَهُمْ مِّنَ جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے (بھی اپنے اپنے زمانہ کے انبیاء کے خلاف)تدبیریں کی تھیں جس کے نتیجہ میں الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ اللہ (تعالیٰ)ان کی عمارتوںکے پاس ان کی بنیادوں کی طرف سے آیا۔جس پر چھت ان کے اوپر کی طرف سے ان پر