تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 60
میں نبیوں کے واقعات بیان نہیں ہوئے بلکہ بعض دلائل بیان ہوئے ہیں۔پس سیاق کے لحاظ سے یہاں یہی معنے زیادہ چسپاں ہوتے ہیں کہ وہ لوگ جودلائل کو سنتے ہیں توڈرتے ہیں کہ لوگوں پر اثر نہ ہوجائے اوراثر کو مٹانے کے لئے تخفیف کے لئے کہتے ہیں کہ اجی یہ کوئی نئی بات نہیں پہلے کئی لوگ یہ باتیں لکھ چکے ہیں ہم ا ن باتوں سے خوب واقف ہیں۔گویا اس طرح وہ اپنے اتباع پر یہ اثر ڈالنا چاہتے ہیں کہ یہ خدائی کلام نہیں صرف پہلے لوگوں کی باتوں کو نقل کرکے یہ شخص بیان کررہاہے اورہم ان باتوںکو پہلے سے ہی جانتے ہیں اوران کی غلطی سے واقف ہیں۔الٰہی دلائل کو مخالفین کا پہلوں کی نقل شدہ باتیں کہنا ہمیشہ کا وطیرہ ہے یہ حربہ حق کے خلاف ہمیشہ سے استعمال ہوتاچلا آتاہے۔جب ائمۃ الکفر دیکھیں کہ دلائل زبردست ہیں اوران کا جواب دینا مشکل ہے۔توہمیشہ یہ کہہ کر بات ٹال دیتے ہیں کہ اجی بس کرو یہ بھی کوئی دلائل ہیں۔ہمیشہ سے لوگ یہ بات کہتے چلے آئے ہیں۔تم نے ان سے نقل کرکے آگے لوگوں کو سنادی ہیں اوران کے جاہل اتبا ع دلیل کی خوبی سے غافل ہوجاتے ہیں اوراسی پر خوش ہوجاتے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں اس لئے خدائی کلام نہیں ہوسکتا۔گویاکہ خدائی کلام وہ ہوتاہے جس میں نئی نئی باتیں بیان کی جائیں۔حالانکہ خدائی کلام کی غر ض توگمشدہ صداقتوں کو قائم کرناہوتا ہے۔گواس میں زمانہ کی ضرورت کے مطابق نئے علوم بھی ہوتے ہیں۔مگر اصولی باتیں سب نبیوں کی ایک ہی ہوتی ہیں۔اِن اصولی باتوںکو چھوڑ کر جو نئی بات کہے گاو ہ توجھوٹ ہی بولے گا۔لِيَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ جس (قول) کے نتیجہ میں وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ (بھی )پورے (پورے)اٹھائیں گے اوران کے بوجھ بھی الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوْنَؒ۰۰۲۶ جن جاہلوںکو وہ گمراہ کررہے ہیں۔سنو!جو بوجھ وہ اٹھارہے ہیں وہ بہت (ہی )بُراہے۔حلّ لُغَات۔اَوْزَارٌ۔اَوْزَارٌ وِزْرٌکی جمع ہے اوروِزْرٌ وَزَرَ کامصدر ہے۔وَزَرَہٗ کے معنے ہیں حَمَلَہٗ۔اس نے اس کو اٹھایا۔وَفِی اللِّسَانِ حَمَلَ مَایُثْقِلُ ظَھْرَہٗ مِنَ الْاَشْیَاءِ الْمُثْقِلَۃِ۔اورلسان میں لکھا ہے کہ وِزْرٌ کالفظ ایسے بوجھ کے اٹھانے کے لئے بولتے ہیں جس کااٹھانا مشکل ہو۔نیزاَلْوِزْرُ کے معنے ہیں اَلْاِثْمُ۔گناہ۔اَلثِّقَلُ۔بوجھ۔اَلسِّلَاحُ لثِقَلِہِ عَلٰی حَامِلِہِ۔ہتھیار کیونکہ وہ بھی اٹھانے والے پر بوجھل ہوتے