تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 62

الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ۰۰۲۷ آن گری اور(اس کایہ )عذاب اُن پر ایسی طرف سے آیاکہ وہ (کچھ)نہیں سمجھتے تھے (کہ کہاں سے آگیا )۔حلّ لُغَات۔مَکَرَ کسی کو اس کے قصد سے کسی تدبیر کے ذریعہ سے پھیرنے کانام مکر ہے اوریہ اچھابھی ہوتاہے اوربُرابھی (اقرب) مزید تشریح کے لئے دیکھیں رعد آیت نمبر ۴۳۔مَکَرَہٗ کے معنے ہیں خَدَعَہُ۔اس کو دھوکا دیا۔اللہُ فُلَانًا: جَازَاہُ عَلی الْمَکْرِ۔جب اللہ تعالیٰ کے لئے مَکَرَ کا لفظ آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مکر کا بدلہ دیا۔قِیْلَ الْمَکْرُ صَرْفُ الْاِنْسَانِ عَنْ مَقْصَدِہِ بِحیْلَۃٍ۔بعض نے کہا کہ کسی کو اس کے قصد سے کسی حیلہ کے ذریعہ سے پھیرنے کا نام مکر ہے۔وَھُوَ نَوْعَانِ مَحْمُوْدٌ یُقْصَدُ فِیْہِ الْخَیْرُ وَمَذْمُوْمٌ یُقْصَدُ فِیْہِ الشرُّ۔اور مکر اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی۔(اقرب) اَتَی اللہُ بُنْیَانَھُمْ: اَتٰی کی تشریح کے لئے دیکھو رعد آیت نمبر ۴۲۔اَ تَاہُ کے معنے ہیں جَاءَ ہٗ۔اس کے پاس آیا۔وَالْاَمْرَ: فَعَلَہٗ۔اور جب اَتٰی کا مفعول اَلْاَمْرَ ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں کام کو کیا۔اَتٰی الْمَکَانَ : حَضَرَہٗ۔کسی جگہ گیا۔اَتٰی عَلَی الشَّیءِ: اَنْفَدَہٗ۔اس کو ختم کیا۔وَبَلَغَ اٰخِرَہٗ اور اس کے انتہاء تک پہنچا۔اَتٰی عَلَیْہِ الدَّھْرَ۔اَھْلَکَہٗ۔زمانہ نے اسے ہلاک کیا۔(اقرب) القواعدُ۔اَلْقَوَاعِدُاس کا مفرد الْقَاعِدَ ۃُ ہے اور قَوَاعِدُ الْبَیْتِ کے معنے ہیں اَسَاسُہٗ۔گھر کی بنیادیں۔(اقرب) خَرَّکے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر۱۰۱۔خَرُّوْا خَرَّ ماضی سے جمع غائب کا صیغہ ہے۔جس کے معنے ہیں سَقَطَ۔سُقُوْطًا یُسْمَعُ مِنْہُ خَرِیْرٌ۔ایسے طور پر گرنا کہ اس سے آواز سنائی دے۔وَالْخَرِیْرُ یُقَالُ لِصَوْتِ الْمَاءِ وَالرِّیْحِ وَغَیْرِ ذٰلِکَ مِمَّا یَسْقُطُ مِنْ عُلُوٍّ۔(مفردات) اور خریر اس آواز کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے اوپر سے گرنے یا ہوا اور پانی کے چلنے سے پیدا ہو۔تفسیر۔فرمایا اس طرح اشتعال دلاکر اوردھوکا دے کر لوگوں کو نبیوں کی تعلیم سے ناواقف رکھنا کو ئی نئی بات نہیں۔بلکہ پہلے انبیاء کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوتاچلا آیا ہے۔مگر ان تدبیروں سے کبھی بھی نبیوں کے دشمن کامیاب نہیں ہوئے۔یہ تدابیر آخر اُلٹ کر انہی پر پڑتی رہی ہیں۔آنحضرت ؐ پر پہلوں کی نقل کرنے کے اعتراض کا جواب یہ طریق کلام کیسالطیف ہے۔دشمنان اسلام