تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 606
ہے جوافغانستان تک ہوا۔لَمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًا سے یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ وہ قوم ایسی مہذب نہ تھی اورمکان وغیرہ ان میں کم تھے۔بلکہ جھونپڑوں یا خیمو ں میں رہتے تھے۔افغانی قبائل کی اس وقت یہی حالت تھی۔وہ تہذیب کے اعلیٰ مقام پر نہ تھے۔مگرمیرے نزدیک الفاظ قرآن پر غورکرنے سے یہ معلوم ہوتاہے کہ وہ بلوچستان کاعلاقہ تھا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًا۔کہ اس نے سورج کو دیکھا کہ وہ ایسی قوم پرچڑھتاہے جس کے اورسورج کے درمیا ن ہم نے کوئی پردہ نہیں بنایا یعنی اوٹ کوئی نہیں۔سیدھی شعاعیں اس پر پڑتی ہیں۔مطلب یہ کہ وہ علاقہ چٹیل میدان ہے۔درخت وغیرہ یااونچے پہاڑ ا س علاقہ میں نہیں۔عام طورپر مورخین یونانی ہی ہیں اس لئے انہوں نے اپنی طرف کے علاقوں کی فتوحات کاہی ذکر کیا ہے۔مشرقی طرف کی فتوحات کا ذکر بالتفصیل نہیں کیا۔ہاں اختصاراً وہ یہ لکھتے ہیں کہ خورس نے مشرق کی طرف افغانستان کے نواح میں حملہ کیا تھااوراس علاقہ کوفتح کرلیاتھا۔مگرچونکہ سیستان بھی فارسی حکومت میں شامل تھا۔میرے نزدیک یہ بلوچستان کے علاقہ کا ذکرمعلوم ہوتاہے جہاں ریت کاصحرااورٹیلے وغیر ہ ہیں۔لیکن اگر تاریخ کے بیان کوکافی سمجھاجائے توپھر لَمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًا سے اس صحرااورمیدان میں بسنے والی قوم مراد لی جائے گی جو سیستان اورہرات کے مغربی جانب اوردُزداب سے شمالی جانب کومشہد تک کئی سومیل تک لمباچلاگیاہے۔كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا۰۰۹۲ (یہ واقعہ ٹھیک )اسی طرح تھااورجوکچھ اس کے پاس تھا اس کاہم نے (اپنے )علم سے احاطہ کیا(ہوا)تھا۔تفسیر۔یعنی جس طرح ہم نے بتایاہے ایسا ہی ہواتھایعنی اس کا ان علاقوں کو فتح کرنا ایک یقینی بات ہے وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًاسے مرادیہ ہے کہ ہم اس کی ہرسفر میں حفاظت کرتے تھے کیونکہ اس کی ہربات کی خبررکھنے کے یہی معنے ہیں کہ اس کے حالات کی نگرانی کرتے تھے۔ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۰۰۹۳ پھر و ہ ایک راستہ پر چل پڑا۔تفسیر۔اس تیسرے اَتْبَعَ سَبَبًامیں خورس بادشاہ کے اس سفرکا ذکر ہے جواس نے ایران سے شمالی