تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 605
طور پر ایمان رکھتاتھا۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ خورس زردشتی مذہب کامخلص پیروتھا۔جومذہب کہ اسلام کے بعدسب مذاہب سے زیادہ بعث بعد الموت پرزوردیتاہے (جیؤش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Cyrus)اس میں لکھاہے کہ یہ امر یقینی طورپرثابت ہے کہ خورس خالص زردشتی مذہب کاپیروتھا۔وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ ا۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ اورجوایمان لائے گااورنیک(اورمناسب حال) عمل کرے گاتواس کے لئے (خدا تعالیٰ کے ہاں اس کے اعمال سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا يُسْرًاؕ۰۰۸۹ کے)بدلہ میں اچھا انجام (مقدر)ہے اورہم(بھی )ضروراس کے لئے اپنے معاملہ میں آسانی والی بات کہیں گے۔تفسیر۔ذوالقرنین کے اخلاق اس آیت سے ذوالقرنین کے اخلاق کاپتہ چلتاہے اورجیسا کہ نوٹ نمبر(۱)میں بتایاجاچکا ہے۔خورس بہت رحم دل تھااورمفتوح اقوام سے نہایت محبت اوررحم کاسلوک کرتاتھا۔اس جگہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں کہا کہ چاہوتوسزادوچاہوتورحم کر و۔تواس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک لطیف طریق رحم کی تعلیم دینے کاہے پہلے عذاب کا ذکر کیا کہ اس قوم نے شرارت توکی ہے اور تمہاراحق ہے کہ ان کوسزادو۔پھر یہ فرما دیاکہ اگرچاہوتوان پر رحم بھی کرسکتے ہو۔یعنی ایک راستہ رحم کابھی کھلا ہے۔اس طرح رحم کی طرف ایک لطیف اشارہ کرکے ذوالقرنین کو خالص نیکی کاموقعہ عطا کیا۔اگر حکماً رحم کرنے کو کہا جاتا تو ذوالقرنین کے طبعی نیکی کے اظہار کاموقعہ نہ ملتا۔لیکن اس حکم کے بعدجواس نے نیکی کی یہ اس کاذاتی فعل تھااوراسے زیادہ ثواب کامستحق بناتاتھا۔ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۰۰۹۰حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا پھر وہ ایک اورراستہ پر چل پڑا۔یہاں تک کہ جب وہ سورج کے نکلنے کے مقام پرپہنچا تواس نے اسے ایسے لوگوں پر تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ۰۰۹۱ چڑھتاپایا۔جن کے لئے ہم نے (ان کے اور)اس کے درمیان کوئی پردہ نہیں بنایاتھا۔تفسیر۔ذوالقرنین کے مشرقی سفر کے حالات اس میں ذوالقرنین کے مشرقی سفر کا ذکر فرمایا