تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 57
کائنات کا نظام خدا تعالیٰ کے واحد ہونے کی دلیل ہے غرض یہ سب کائنات مل کرانسان کی خدمت کررہی ہے۔اوراس کا ہر حصہ دوسرے حصے کے قیام کاذریعہ ہے۔جب یہ حال ہے توپھردوخدا کاعقیدہ کس طرح درست ہو سکتا ہے۔اگر دنیا کو کئی خدائوں نے پیدا کیا ہے۔تووہ کون ساحصہ ہے جس کے بارہ میں کہاجاسکتاہے کہ وہ دوسرے سے آزاد ہے کہ سمجھا جاسکے کہ اُسے کسی اورنے پیدا کیا ہوگا۔اوراگر ساری کائنات ایک زنجیر کی کڑیوں پر مشتمل ہے توا س کا بنانے والا ایک ہی خداتسلیم کرنا پڑے گا۔سوائے اس کےکہ یہ کہا جائے کہ خدا تعالیٰ میں سب کائنات بنانے کی قدرت نہ تھی۔اس لئے کئی خدائوں نے مل کر کا م تقسیم کرلیا اورپہلے سے تجو یز کردہ نقشہ کے مطابق ہراک نے اپنا اپنا حصہ پور اکیا۔لیکن یہ عقید ہ مشرکوں کابھی نہیں اورہے بھی خلاف عقل۔کیونکہ ناقص وجود خدانہیں ہوسکتے۔پس اس دلیل کی موجود گی میںایک ہی نتیجہ نکلتاہے کہ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ تمہارا خد اوہی ہے جو ایک ہے۔دوسرامضمون پہلی آیات میں یہ بتایاگیاتھا کہ وہ سب وجود جن کو خداکہاجاتا ہے فوت ہوچکے ہیں۔پس جب وہ فوت ہوچکے ہیں توپھر بھی ایک ہی خداباقی رہ جاتاہے جوموت سے بالا ہے۔پس اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ میں پہلے مضامین کانتیجہ بیان کیاگیا ہے اورکوئی بے دلیل دعویٰ بیان نہیں کیاگیا۔بعث بعد الموت کے انکار کے دو نتائج اس کے بعد فرماتا ہے۔فَالَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ مُّنْکِرَۃٌ وَّھُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ اس جگہ فا ء، واو کے معنوں میں ہے اورفاء ،واو کے معنوں میں عربی زبان میں مستعمل ہوتی ہے۔(اقرب) اورترجمہ یہ ہے کہ ’’اورجولوگ آخرۃ پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اوروہ تکبر سے کام لیتے ہیں‘‘اس فقرہ میں اس سوال کا جواب دیا ہے کہ اگرخدا تعالیٰ کا ایک ہونا ایسا بدیہی امر ہے تولوگ اس کے ایک ہونے کا انکار کیوںکرتے ہیں۔اوروہ جواب یہ ہے کہ یہ انکار کسی دلیل پر مبنی نہیں۔بلکہ باوجود ان دلائل کے شرک میں مبتلاہونا اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ بعث بعد الموت کے منکر ہیں۔اوراس انکا ر کی وجہ سے ان کے اندر سنجیدگی باقی نہیں رہی۔کیونکہ جب یہ اپنے افعال کو بغیر نتیجہ سمجھتے ہیں توانہیں ان کے اچھا براہونے کے متعلق خاص فکر پیدا نہیں ہوتی۔اورضداورتعصب میں کوئی حرج نہیں دیکھتے۔کیونکہ ان کے خیال میں گرفت توکوئی ہونی نہیں۔اس لئے آہستہ آہستہ ان کے دل جاہل اورغبی ہوگئے ہیں۔اوروہ مادہ سمجھ اورہدایت کا ان میں باقی نہیں رہاجو اس وقت انسان میں پیدا ہوتا ہے جب کہ وہ یہ محسوس کر تاہے کہ میرے اعمال کا کوئی اہم نتیجہ نکلنے والا ہے۔غرض آخرت کے انکار کی وجہ سے لاابالی پن اورسنجیدگی کافقدا ن ان میں پیداہوگیا ہے اوردل علم سے محروم رہ گئے ہیں۔اور اس وجہ سے بدیہی اوریقینی باتوں کاانکار بھی دلیر ی سے کردیتے ہیں۔اورغور کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتے۔غرض اس جگہ مُّنْكِرَةٌ کے