تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 56
قرآن مجید کا دعویٰ کے بعد دلائل بیان کرنا یا واقعات کے بعد ان کے طبعی نتائج بیان کرنا یاتودعویٰ بیان کرنے کے بعد ہی اس کے دلائل دیتاہے یادلائل بیان کرکے بعد میں اس کانتیجہ پیش کرتاہے اوریہی دوطبعی طریق ہیں جن سے انسانی دماغ تسلی پاتاہے اوردونوں اپنے اپنے رنگ میں نہایت موثر ہیں۔بعض دفعہ دعویٰ بیان کرکے بعد میں دلائل دینا مفید ہوتا ہے اور بعض دفعہ واقعات بیا ن کرکے بعد میں ان کا طبعی نتیجہ بیان کر نا مفید ہوتاہے۔اس جگہ دوسراطریق اختیار کیا ہے اورپہلی آیات کاعقلی نتیجہ پیش کیا ہے۔پہلی آیات میں دومضمون بیان ہوئے ہیں۔ایک تویہ کہ سب کائنات ایک ہی رشتہ میں پروئی ہوئی ہے اورایک چیز کادوسری پرانحصار ہے۔انسان کی پیدائش اصل ہے۔اس کی غذااول حیوانی ہے۔حیوان درختوں و غیر ہ سے غذاحاصل کرتے ہیں۔آگے وہ درخت اوربوٹیاں آسمانی پانی سے پلتے ہیں اوروہ پانی انسان کے پینے کے کام بھی آتا ہے۔پھر اُسی پانی سے نباتا ت اُگتی ہیں جوانسان کی غذائیں بنتی ہیں۔یہ سب اشیاء رات، دن، سورج، چاند اورستاروں کی تاثیر ات سے نشوونماپاتی ہیں۔دوسری طرف ان کے قیام کا ذریعہ سمندر ہے جس میں پانی کاذخیرہ رہتا ہے۔اور اس سے پانی چھن کر پھر انسانوں کو ملتاہے۔اوراس سمندر کو اپنے حال پر رکھنے کے لئے پہاڑ ہیں جوپانی جمع رکھتے ہیں۔وہاں سے دریائوں کے ذریعہ سے پانی بہتاہے جوخاص راستوںپر چل کر سمندرمیں آکر گرجاتا ہے اورسطح زمین پر پھیل نہیں جاتاکہ زمین انسانوں کی رہائش کے قابل نہ رہے۔ان سب امورسے ایک واضح نتیجہ نکلتا ہے اوروہ یہ کہ دنیا کی ہرچیز ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔اوردنیامتفرق چیزوں کامجموعہ نہیں۔بلکہ اس کااختلاف ایسا ہی ہے جیسے ایک زنجیر کی کڑیا ں۔اگر ایک کڑی نکال دی جائے تو زنجیر ،زنجیر نہیں رہتی۔اسی طرح کائنا ت میں سے ایک چیز کو نکال دو ساری دنیا تباہ ہوجائے گی۔سمندر خشک کردو پانی ختم ہوجائے گا۔دریا خشک کردو سمندر خشک ہوجائے گا۔اس نشیب کو جو دریائوں کے لئے راستہ بناتا ہے دورکردو۔سب دنیا پر پانی پھیل جائے گا اور زمین رہائش کے قابل نہ رہے گی۔پہاڑ مٹادو زمین پر زلزلے آئیں گے اورانسان ہلاک ہوجائے گا۔دریائوں کے لئے پانی کاذخیرہ باقی نہ رہے گااوروہ سارا پانی یکدم سمندر میں جاگرائیں گے۔اگر ایک طرف دنیا سیلاب کی نظر ہوگی تودوسری طرف سال بھر تک پانی کے مہیا رہنے کی صورت مفقود ہوجائے گی۔چاند ستاروںکو مٹادو توجو ان کی وجہ سے پیدائش عالم پر اثر ہے و ہ جاتارہے گااورزمین اپنی حالت پر نہ رہے گی۔سورج کو الگ کردو یہ بادلوں کا سلسلہ جاتارہے گا اور لوگ پانی کو ترس جائیں گے اورسبزیوں کاپکنا بند ہوجائے گا۔اورانسان کی صحت خراب ہو جائے گی۔اوراس کی حیوانی غذاکے پیدا ہونے کا بھی امکان نہ رہے گا۔